سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(600) برقعہ پہن کر طواف کرنا
  • 18207
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 860

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اپنی والدہ اور دادی کو لے کر عمرہ کے لیے آیا تھاجب ہم طواف کرنے لگے تو ہم نے دیکھا کہ وہ برقعے پہنے ہوئے تھیں، تو میں نے انہیں کہا کہ یہ اتاردیں اور پردے کی چادر لٹکا لیں، اس کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حکم یہ ہے کہ عورت جب احرام باندھ لے تو اسے برقعہ پہننا جائز نہیں ہے آپ ﷺ کا عورت کے لیے یہی حکم ہے کہ «لا تنتقب المراة»یعنی حالت احرام میں نقاب یا برقع نہ پہنے۔‘‘ اور برقع نقاب سے بھی بڑا ہوتا ہے لیکن اگر کسی نے جہالت سے پہنچ لیا اور اس کا خیال تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہےتو اس پر کچھ نہیں، نہ کوئی فدیہ ہے نہ کوئی گناہ ہے اور نا ہی عمرے میں کوئی نقص آتا ہےکیونکہ یہ جاہل اور لاعلم تھی اور احرام کے دوران دیگر پابندیوں کا یہی حکم ہےمثلاً کوئی جہالت سے یا بھول کر اپنا سرمنڈوالے، یا سلا ہوا لباس پہن لے یا خوشبو استعمال کر بیٹھے یا کوئی دوسرا اس کو ان کاموں پر مجبور کردے اور اسے کرنا پڑے تو ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ کوئی فدیہ ہے۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 423

محدث فتویٰ

تبصرے