سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(426) دماغی عارضہ کی وجہ سے روزہ چھوڑنا

  • 18033
  • تاریخ اشاعت : 2017-01-31
  • مشاہدات : 300

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری ایک بیٹی جس کی عمر تیس سال ہے، اس کے بچے بھی ہیں، مگر وہ عقلی طور پر بیمار ہے، چودھویں سال سے اسے یہ عارضہ ہوا ہے۔ پہلے اسے یہ عارضہ کچھ وقت کے لیے ہوتا تھا اور پھر وہ ٹھیک ہو جاتی تھی، اور اب کی بار خلاف عادت ایسے ہوا ہے کہ تین ماہ ہونے کو آئے ہیں کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔ نماز تو کیا، وہ وضو بھی ٹھیک طرح سے نہیں کر سکتی، سوائے اس کے کہ کوئی اس کو بتلاتا رہے تو کچھ کر لیتی ہے۔ اب رمضان آیا ہے تو اس نے ایک روزہ رکھا اور وہ بھی کوئی ٹھیک طرح سے نہ تھا، پھر اس کے بعد اس نے کوئی روزہ نہیں رکھا۔ براہ مہربانی مجھے اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ میرے ذمے کیا ہے اور اس پر کیا واجب ہے جبکہ میں اس کا ذمہ دار ہوں؟ جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس عورت کی جو حالت آپ نے بیان کی ہے اگر فی الواقع ایسی ہی ہے، تو اس پر کوئی نماز روزہ واجب نہیں ہے، نہ ابتداء فرض ہے اور نہ پھر اس کی کوئی قضا، جب تک کہ وہ اسی صورت حال سے دوچر رہے۔ اور آپ ولی امر پر بھی کچھ نہیں ہے، سوائے اس کے کہ اس کی خدمت کرتے رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے، اور ہر شخص اپنے زیر سرپرستی لوگوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القری والمدن، حدیث: 853 و صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضیلۃ الامام العادل، حدیث: 1829 و سنن ابی داود، کتاب الخراج والفئی والامارۃ، باب ما یلزم الامام من حق الرعیۃ، حدیث: 2928)

اور اگر وہ بعض اوقات میں اس مرض سے افاقہ میں ہو اور اپنے فہم و شعور میں ہو تو اس وقت کی نماز اس پر فرض ہو گی، اور اسی طرح رمضان کے ایام میں جب وہ صحیح سلامت اور باشعور ہو تو روزہ اس پر فرض ہو گا، جتنے دن وہ صحت مند رہے۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 344

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ