سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(312) استحاضہ کے لیے نمازوں کا حکم

  • 17919
  • تاریخ اشاعت : 2017-01-30
  • مشاہدات : 258

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

استحاضہ والی کے لیے نمازوں کا کیا حکم ہے، کیا اسے وضو کرنا چاہئے یا غسل؟ اور کیا وضو نماز کا وقت شروع ہونے پر کرے یا اس سے پہلے بھی کر سکتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال کے پہلے حصے کا جواب پہلے دیا جا چکا ہے (یعنی وہ نمازوں کی پابند ہے) اور دوسرے حصے کا جواب یہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک نماز کا وقت شروع ہو جانا شرط ہے، جبکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نماز کا وقت شروع ہونا شرط نہیں کہتے ہیں۔ کیونکہ اس شرط کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا قُمتُم إِلَى الصَّلو‌ٰةِ...﴿٦﴾... سورةالمائدة

"اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو ۔۔"

اور یہ کھڑا ہونا نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عمل بعض اوقات وقت شروع ہونے سے پہلے بھی ہو سکتا ہے اور بعض اوقات وقت شروع ہونے کے بعد، مثلا اگر ایک عورت عشاء کی نماز مسجد میں ادا کرنا چاہتی ہے، اور اس نے مغرب کی نماز گھر میں پڑھی ہے، پھر اسے استحاضہ آ گیا، تو اس نے گھر ہی میں عشاء کے لیے وضو کیا اور عشاء کی اذان سے پہلے ہی مسجد کی طرف چل دی تاکہ یہ نماز مسجد میں ادا کر سکے تو اس کا یہ قیام عشاء ہی کے لیے ہے، الغرض وقت کا شروع ہونا شرط نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔ (محمد بن عبدالمقصود)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 268

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ