سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(210) استحاضہ والی عورت نماز کس طرح پڑھے؟

  • 17817
  • تاریخ اشاعت : 2017-01-23
  • مشاہدات : 583

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا استحاضہ والی عورت کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور لنگوٹ باندھ لے اور نماز کے لیے وضو کر لیا کرے یا اسے ہر نماز کے لیے جنابت کی طرح غسل کرنا ہو گا ۔۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

استحاضہ والی عورت پر واجب ہے کہ حیض کے ایام ختم ہونے پر ایک بار غسل کر لے، اس کے بعد اس پر غسل واجب نہیں ہے حتیٰ کہ پھر وہی دن آ جائیں۔ دونوں میں (جن میں کہ اسے استحاضہ آتا رہتا ہے) ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرے۔ (یہ اس کے طہر ہی کے دن شمار ہوں گے)۔ اس مسئلہ کی دلیل وہ حدیث ہے جو صحیح بخاری میں آئی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نبی علیہ السلام کی خدمت میں آئیں اور بتایا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جو پاک نہیں رہتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دیا کروں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں، یہ تو ایک رگ کا خون ہے اور حیض نہیں ہے۔ جب تیرا حیض آیا کرے تو نماز چھوڑ دیا کر، اور جب ختم ہوا کرے تو تو اپنے سے خون دھو اور پھر ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کر، حتیٰ کہ تیرا حیض کا وقت آ جائے۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الوضوء، باب غسل الدم، حدیث: 228۔ صحیح بخاری، کتاب الحیض، باب الاستحاضۃ، حدیث: 306۔ صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب المستحاضۃ و غسلھا و صلاتھا، حدیث: 333)

اور یہ بھی ثابت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ آتا رہا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ غسل کریں اور فرمایا کہ ’’یہ ایک رگ ہے‘‘۔ چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب المستحاضۃ و غسلھا و صلاتھا، حدیث: 334۔ سنن الترمذی، ابواب الطھارۃ، باب المستحاضۃ انھا تغسل عند کل صلاۃ، حدیث: 129۔ سنن النسائی، کتاب الطھارۃ، باب ذکر الاغتسال من الحیض، حدیث 206)

ان دونوں حدیثوں سے استدلال اس طرح ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی حدیث مطلق اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث مقید ہے، تو مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا۔ چنانچہ ایسی عورت حیض کے اختتام پر ایک غسل کرے اور پھر ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہے، اور اس کا ہر نماز کے لیے غسل اپنی اصل پر ہے یعنی ’’عدم وجوب۔‘‘ اگر ہر نماز کے لیے غسل واجب ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیتے، اور یہ بیان کا موقع تھا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ناممکن ہے کہ بوقت حاجت ضروری بات سے خاموش رہیں اور اس قاعدے پر علماء کا اجماع ہے۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح مسلم میں ان احادیث کے بعد فرماتے ہیں:

’’خیال رہے کہ مستحاضہ پر نمازوں کے لیے یا کوئی اور غسل واجب نہیں ہے سوائے اس وقت کے جب اس کا حیض پورا ہو جاتا ہے۔ سلف و خلف کے جمہور علماء کا یہی قول ہے۔ اور حضرت علی، ابن مسعود، ابن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہم اور ان کے علاوہ جناب عروہ بن زبیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔‘‘ انتہی

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 213

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ