سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(127) غسل کا طریقہ

  • 17734
  • تاریخ اشاعت : 2017-01-22
  • مشاہدات : 266

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

غسل کا کیا طریقہ ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک عام اور واجب ہے، اوردوسری ہے کامل اور مسنون غسل۔ عام واجب تو یہی ہے کہ آدمی اپنے پورے جسم پر پانی بہا لے، اوراس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی دینا بھی شامل ہے۔ لہذا جس نے اپنے سارے جسم پر پانی بہا لیا اس سے "حدث اکبر" کی کیفیت زائل ہو گئی اور وہ پاک ہو گیا۔ کیونکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے:

﴿وَإِن كُنتُم جُنُبًا فَاطَّهَّروا...﴿٦﴾... سورة المائدة

’’اور اگر تم جنابت سے ہو تو طہارت حاصل کرو، یعنی غسل کر لو۔‘‘

اور دوسری کامل اور مسنون صورت یہ ہے کہ آدمی (مرد ہو یا عورت) اسی طرح غسل کرے جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ تو اسے چاہئے کہ پہلے اپنے ہاتھ دھوئے، اور پھر اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور جنابت کے اثرات ہوں تو انہیں دور کرے، پھر نماز والا کامل وضو کرے، پھر اپنے سر کو دھوئے، تین بار اسے خوب تر کرے اور پھر باقی بدن پر پانی بہا لے۔اور یہ کامل مسنون غسل کا طریقہ ہے۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 169

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ