سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(98) ٹشو سے استنجا کرنا

  • 17705
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 1413

سوال

(98) ٹشو سے استنجا کرنا

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا استنجاء میں ٹشو پیپر استعمال کر لینا کافی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہاں استنجا کے لیے ٹشو پیپر استعمال کر لینا کافی ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ اس سے مقصد نجاست کے نقصان کا ازالہ کرنا ہوتا ہے خواہ ٹشو پیپر سے ہو، یا کسی چیتھڑے سے یا مٹی سے یا ڈھیلوں سے۔ ہاں شریعت کی منع کردہ چیزوں سے استنجا کرنا جائز نہیں ہے۔ مثلا ہڈیاں یا لید اور گوبر۔ کیونکہ ہڈیاں اگر ذبح کیے گئے جانور کی ہوں تو یہ جنوں کی خوراک ہوتی ہیں، اور اگر غیر ذبح شدہ جانور کی ہوں تو وہ نجس ہوتی ہیں، اور نجس چیز سے طہارت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اور گوبر حلال جانور کا ہو تو یہ جنوں کے حیوانات کی خوراک ہوتی ہے۔ جنوں کی وہ قوم جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھی، اور اسلام قبول کیا تھا، آپ نے ان کو ایسی ضیافت دی ہے جو قیامت تک کے لیے ختم نہ ہو گی۔ فرمایا:

لكم كل عظم ذكر اسم الله عليه، تجدونه وافر ما يكون لحما

’’تمہارے لیے ہر وہ ہڈی ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، تم اسے گوشت سے بھرپور پاؤ گے۔‘‘[1]

اور اس کا تعلق غیبی امور سے ہے جو ہمیں نظر نہیں آتے، ہمیں اس پر ایمان لانا واجب ہے، ایسے ہی یہ گوبر یا لید ان کے جانوروں کا چارہ ہوتی ہے۔

اور اس حدیث سے انسانوں کی جنوں پر فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں، اور جنوں کے باوا کو حکم دیا گیا تھا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرے، جیسے کہ قرآن مجید میں ہے مثلا:

﴿فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ كانَ مِنَ الجِنِّ فَفَسَقَ عَن أَمرِ رَبِّهِ ...﴿٥٠﴾... سورةالكهف

’’۔۔ تو سب فرشتوں نے آدم کو سجدہ کر لیا مگر ابلیس نے نہ کیا، وہ جنوں میں سے تھا، اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔‘‘


[1] ’’ تجدونه‘‘ کی جگہ ’’ يقع فى ايديكم‘‘ کے الفاظ ہیں۔ شاید شیخ صاحب نے بالمعنی روایت بیان کی ہے۔ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب الجھر بالقراءۃ فی الصبح والقراءۃ علی الجن، حدیث: 450۔ صحیح ابن ماجہ: 44/1، حدیث: 82 و صحیح ابن حبان: 280/4، حدیث: 1432۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 148

محدث فتویٰ

تبصرے