سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(74) وسیلے کا حکم

  • 17681
  • تاریخ اشاعت : 2016-12-27
  • مشاہدات : 870

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وسیلے (اور طفیل) کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ ایک بڑا اہم سوال ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تفصیل سے اس کا جواب دیا جائے۔

توسل مصدر ہے فعل توسل يتوسل کا۔ یعنی کسی چیز کو وسیلہ اور ذریعہ بنانا جو انسان کو اس کے مقصد تک پہنچا دے۔

وسیلے کی دو قسمیں ہیں: 1۔ صحیح اور جائز وسیلہ 2۔ غلط اور ناجائز وسیلہ۔ صحیح اور جائز وسیلے کی چھ صورتیں ہیں:

1۔ اللہ عزوجل کے اسمائے حسنیٰ کا وسیلہ اختیار کرنا، اور اسے اس کے ناموں کا واسطہ دینا اور اس کی دو صورتیں ہیں۔ اول: یہ کہ عمومی انداز میں مجمل طور پر اس کے ناموں کا واسطہ وسیلہ اختیار کیا جائے۔ مثلا جیسے کہ غم و پریشانی کے ازالہ کے لیے دعا میں آیا ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي[1] تو اس دعا میں عمومی انداز میں اسمائے الٰہیہ کا توسل لیا گیا ہے: یعنی (أسألك بكل اسم هو لك سميت به نفسك) (میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنا نام رکھا ہے)۔

اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ انسان اپنی حاجت اور ضرورت کے لحاظ سے کسی خاص اسم الٰہی کا واسطہ اختیار کرے۔ مثلا اس حدیث میں جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ مجھے کوئی دعا تعلیم فرمائیں جو میں نماز میں پڑھا کروں، تو آپ نے انہیں یہ دعا سکھلائی:

(اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ)[2]

تو اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحمت کا سوال ہے تو اس مناسبت سے اسمائے حسنیٰ میں سے "الغفور" اور "الرحیم" کا واسطہ وسیلہ لیا گیا ہے۔

توسل و وسیلہ کی یہ نوعیت اللہ عزوجل کے اس فرمان سے ماخوذ ہے:

﴿وَلِلَّهِ الأَسماءُ الحُسنىٰ فَادعوهُ بِها ...﴿١٨٠﴾... سورة الاعراف

’’اور اللہ عزوجل کے پیارے پیارے خوبصورت نام ہیں، تو اسے ان ہی سے پکارو۔‘‘

اور دعا میں دعائے سوال اور دعائے عبادت دونوں شامل ہیں۔

2۔ دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی صفات کے واسطے وسیلے سے دعا کی جائے۔ اس میں بھی مذکورہ بالا کی طرح دو صورتیں ہیں:

پہلی یہ کہ عمومی انداز میں کہا جائے مثلا:

اللهم إني أسألك بأسمائك الحسنى وصفاتك العلى[3]

پھر اپنا سوال پیش کیا جائے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ دعا و سوال کی مناسبت سے کسی خاص صفت کا واسطہ دے کر دعا کی جائے مثلا جیسے کہ حدیث میں آیا ہے:

اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي [4]

اس دعا میں اللہ کی صفت علم اور قدرت کا واسطہ وسیلہ پیش کیا گیا ہے جو مطالبہ دعا کے عین مطابق ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دعا میں کسی صفت فعلی کو واسطہ بنا لیا جائے تو جائز ہے مثلا:

اللهم صلِّ على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم، وعلى آل إبراهيم (اس میں كما صليت على إبراهيم، وعلى آل إبراهيم ۔۔ صفت فعلی ہے)۔

3۔ تیسری قسم یہ ہے کہ انسان اپنی دعا میں اپنے ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کو بطور واسطہ وسیلہ پیش کرے۔ اور یوں کہے: (اللهم إني آمنت بك، وبرسولك فاغفر لي أو وفقني) (اے اللہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لایا ہوں، سو تو مجھے بخش دے ۔۔ یا کہے کہ ۔۔ مجھے توفیق عنایت فرما)۔ یا اس طرح سے دعا کرے (اللهم بايمانى بك وبرسولك اسالك) ۔۔ (اے اللہ اس سبب سے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لایا ہوں، تجھ سے سوال کرتا ہوں۔۔)۔ اس قسم میں سے وہ دعا ہے جو سورہ آل عمران کے آخر میں عقل مند بندوں کا معمول بتائی گئی ہے ۔۔

﴿رَبَّنا إِنَّكَ مَن تُدخِلِ النّارَ فَقَد أَخزَيتَهُ وَما لِلظّـٰلِمينَ مِن أَنصارٍ ﴿١٩٢ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعنا مُنادِيًا يُنادى لِلإيمـٰنِ أَن ءامِنوا بِرَبِّكُم فَـٔامَنّا رَبَّنا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَكَفِّر عَنّا سَيِّـٔاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الأَبرارِ ﴿١٩٣﴾... سورة آل عمران

’’اے ہمارے رب ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی پکار لگاتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ، چنانچہ ہم ایمان لے آئے ہیں، سو ہمارے گناہ معاف فرما دے، ہماری غلطیوں پر پردے ڈال دے اور ہمیں صالحین کے ساتھ موت آئے۔‘‘

یہ لوگ اللہ عزوجل کے حضور اپنے ایمان لانے کو واسطہ وسیلہ بنا کر دعا کرتے ہیں کہ ان کے گناہ بخش دئیے جائیں، ان کی غلطیوں پر پردہ ڈال دیا جائے اور انہیں صالحین کے ساتھ موت آئے۔

4۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ اللہ کے حضور اپنا کوئی صالح عمل پیش کر کے اس کے واسطے سے دعا کی جائے۔ اور اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں تین آدمیوں کا قصہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے ایک سفر میں ایک غار میں پناہ لی تو اس کے دہانے پر ایک بڑا پتھر آ گیا اور وہ اس میں محبوس ہو کر رہ گئے، اس پتھر کو ہٹانا ان کے لیے ناممکن تھا، تو ان میں سے ہر ایک نے اپنا اپنا ایک ایک صالح عمل پیش کر کے دعا کی۔ چنانچہ ایک نے اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک، دوسرے نے اپنی کامل عفت اور تیسرے نے اپنے مزدور کو اس کی مزدوری کامل طور پر ادا کر دینے کو پیش کیا، اور انہوں نے اس طرح دعا کی:

اللهم ان كنت فعلت ذلك من اجلك فاخرج عنا ما نحن فيه

’’اے اللہ! اگر میں نے یہ کام تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہم سے یہ مصیبت جس میں ہم پھنس گئے ہیں، دور کر دے۔‘‘

چنانچہ چٹان کا وہ ٹکڑا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔( صحيح بخارى، كتاب البيوع، باب اذا اشترى شيئا لغيره بغير اذنهفرضى، حيث 2102۔ صحيح مسلم، كتاب العلم، باب قصة اصحاب الغار، حديث 2743)  اور یہ اللہ کے حضور عمل صالح کا توسل ہے۔

5۔ پانچویں صورت یہ ہے کہ دعا کرنے والا اللہ کے حضور اپنی حالت، لاچاری اور زاری کی کیفیت کو وسیلہ بنائے، جیسے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنی غریب الوطنی میں دعا کی تھی:

﴿ فَقالَ رَبِّ إِنّى لِما أَنزَلتَ إِلَىَّ مِن خَيرٍ فَقيرٌ ﴿٢٤﴾... سورة القصص

’’اے اللہ تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘

اور سیدنا زکریا علیہ السلام کی دعا بھی اس طرح کی تھی:

﴿قالَ رَبِّ إِنّى وَهَنَ العَظمُ مِنّى وَاشتَعَلَ الرَّأسُ شَيبًا وَلَم أَكُن بِدُعائِكَ رَبِّ شَقِيًّا ﴿٤﴾... سورةمريم

’’اے میرے رب میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں، اور سر سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے، اور اے میرے رب میں تجھے پکار کے کبھی بدبخت نہیں ہوا ہوں۔‘‘

الغرض توسل کی یہ سب صورتیں جائز ہیں، اور حصول مقصد کے لیے صالح اور مشروع سبب ہیں۔

6۔ چھٹی صورت یہ ہے کہ کسی صالح بندے سے دعا کروائی جائے، جس کے متعلق قبولیت کی امید ہو۔ چنانچہ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض اوقات بالعموم اور کبھی خصوصیت کے ساتھ دعا کا کہا کرتے تھے۔ چنانچہ صحیحین میں ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص آیا، جمعہ کا روز تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مال مویشی مر گئے، رستے کٹ گئے، اللہ سے دعا فرمائیے کہ ہمیں بارش عنایت فرمائے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی: (اللهم اغثنا) تین بار کہا۔ چنانچہ آپ منبر سے نیچے نہیں آئے کہ بارش ہونے لگی حتیٰ کہ آپ کی داڑھی سے پانی کے قطرات گرنے لگے، اور پھر پورا ایک ہفتہ بارش ہوتی رہی۔ اور پھر اگلے جمعے میں وہی آدمی آیا یا کوئی دوسرا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مال مت گئے، گھر گر گئے، اللہ سے دعا کیجئے کہ اس بارش کو ہم سے روکے، چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ بلند فرمائے اور کہا: "اے اللہ ہمارے اردگرد ہو، ہم پر نہ ہو" چنانچہ آسمان سے جس طرف بھی آپ کا اشارہ ہوا، بادل چھٹتا چلا گیا، حتیٰ کہ جمعہ کے بعد لوگ دھوپ میں چل رہے تھے۔( صحيح بخارى، كتاب الاستسقاء، باب الاستسقاء فى خطبة الجمعة، حديث: 968۔ صحيح مسلم، كتاب صلاة الاستسقاء، باب الدعاء فى الاستسقاء، حديث: 879)

اور بے شمار واقعات ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لیے دعائیں کروائیں اور آپ نے کیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ نے ایک بار بیان فرمایا کہ: میری امت میں سے ستر ہزار افراد ایسے ہوں گے جو بغیر کسی حساب اور بغیر کسی عذاب کے جنت میں جائیں گے۔ اور وہ ایسے لوگ ہوں گے جو دم جھاڑ نہیں کرواتے ہوں گے، لوہے سے داغ نہیں لگواتے ہوں گے، بدفالی نہیں لیتے ہوں گے اور اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہوں گے۔ چنانچہ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے ان ہی میں سے بنا دے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: ’’تم ان ہی میں سے ہو۔‘‘( صحيح بخارى، كتاب الطب، باب من اكتوى او كوى غيره ۔۔۔، حديث 5378۔ صحيح مسلم، كتاب الايمان، باب الدليل على دخول طوائف من المسلمين الجنة، حديث 220) تو جائز توسل کی ایک صورت یہ بھی ہے۔ یعنی انسان کسی صالح انسان سے، جس کی دعا مقبول ہونے کی امید ہو، دعا کروائے اور چاہئے کہ دعا کروانے والا اپنے فائدہ کے ساتھ ساتھ دعا کرنے والے کے لیے بھی دائدہ کا ارادہ رکھتا ہو، صرف اپنی غرض ہی پیش نظڑ نہ رکھے۔ کیونکہ آپ جب اپنے فائدہ کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کا فائدہ بھی سوچیں گے تو یہ اس کے لیے بہت بڑا احسان ہو گا۔ اور انسان جب پیٹھ پیچھے کسی کی غیر حاضری میں اس کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: ’’ آمين، ولك بمثل ‘‘ (اللہ کرے ایسے ہی ہو، اور تمہارے لیے بھی یہی کچھ ہو)۔ چنانچہ وہ اس طرح دعا کرنے سے محسنین میں سے بن جاتا ہے اور اللہ عزوجل احسان کرنے والوں کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔

دوسری قسم ناجائز توسل ہے۔ یعنی بندہ اللہ کے حضور کوئی ایسا وسیلہ پیش کرے جو وسیلہ ہی نہیں یا شریعت کی رُو سے وہ ناجائز ہے۔ اس طرح کا وسیلہ لغو، باطل اور غیر معقول ہو گا کیونکہ وہ شریعت میں غیر منقول ہے۔ مثلا کوئی کسی میت کو پکارے اور اس سے دعا کرے کہ وہ اس کے لیے اللہ سے دعا کرے۔ یہ وسیلہ نہ شرعی ہے اور نہ کسی طرح سے صحیح۔ کیونکہ یہ بڑی حماقت ہے کہ انسان کسی مردے سے دعا کرے کہ وہ اس کے لیے اللہ سے دعا کرے۔ کیونکہ انسان جب مر جاتا ہے تو اس سے اس کے عمل بھی منقطع ہو جاتے ہیں، اور اس کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے کہ مرنے کے بعد کسی کے لیے دعا کرے۔ حتیٰ کہ نبی علیہ السلام کے لیے بھی یہ ممکن نہیں رہتا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد کبھی آپ سے آپ کی دعا کا وسیلہ نہیں لیا۔ جناب عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں جب قحط پڑا تو انہوں نے اس طرح دعا کی:

اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا (صحيح بخارى، كتاب الاستسقاء، باب سؤال الناس الامام استسقاء۔۔۔، حديث: 964)

’’اے اللہ ہم تیرے حضور اپنے نبی کو وسیلہ بنایا کرتے تھے اور تو ہمیں بارش دیا کرتا تھا، اور اب ہم تیرے حضور اپنے نبی کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں، تو ہمیں بارش عنایت فرما۔‘‘

تب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ تو اگر میت سے دعا کرنا درست ہوتا اور جائز اور صحیح وسیلہ ہوتا تو جناب عمر رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھ دیگر صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرتے، کیونکہ اس میں شبہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا، جناب عباس رضی اللہ عنہ کی دعا کی بہ نسبت زیادہ مقبول ہوئی۔

غیر مشروع اور ناجائز توسل کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جاہ، یعنی قدر، شرف، بلندی، مرتبہ کے واسطہ وسیلہ سے دعا کی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی قدر و شان دعا کرنے والے کے لیے کسی طرح مفید نہیں ہے، اس کا فائدہ صرف اور صرف آپ ہی کی ذات مطہر کو ہے، دعا کرنے والے کو اس کا کیا فائدہ کہ اسے وسیلہ بنائے۔ اور پیچھے گزر چکا ہے کہ وسیلہ وہی مفید اور کارآمد ہے جو کوئی نتیجہ بھی دے۔ تمہیں اس سے کیا فائدہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے ہاں بڑی قدر شان والے ہیں؟ اگر آپ وسیلہ لینا ہی ہے تو یوں کہئے: (اللهم بايمانى بك وبرسولك) (اے اللہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لایا، اسی واسطے ۔۔) یا یوں کہو ۔۔ اے اللہ مجھے تیرے رسول سے محبت ہے اس واسطے ۔۔ وغیرہ۔ یہی صورت جائز، مشروع اور صحیح و مفید وسیلہ کی ہو۔


[1] اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، مجھ پر تیرا حکم جاری ہے، میرے متعلق تیرے فیصلے عین عدل ہیں، میں تجھ سے اے اللہ تیرے ہر اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنے لیے اختیار فرمایا ہے، یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا اپنے علم غیب میں تو نے اسے پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ قرآن کو میرے دل کی بہار بنا دے، اسے میرے سینے کا نور بنا دے، میرے غموں کا ازالہ بنا دے، میرے فکروں اور پریشانیوں کے دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔ (مسند احمد بن حنبل: 391/1، حديث: 3712)

[2] دعا کا ترجمہ: اے اللہ میں اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم اور زیادتی کر چکا ہوں، اور گناہوں کو تیرے علاوہ اور کوئی نہیں بخش سکتا، سو تو مجھے اپنی طرف سے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، بلاشبہ تو بے انتہا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ صحيح بخارى، كتاب صفة الصلاة، باب الدعاء قبل السلام، حديث 799)

[3] ترجمہ: اے اللہ میں تجھ سے تیرے خوبصورت ناموں اور عالی شان صفات کے واسطے سے سوال کرتا ہوں ۔۔۔

[4] ترجمہ: اے اللہ تجھے تیرے علم غیب کا واسطہ اور مخلوقات پر تیری قدرت کا واسطہ، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک کہ تیرے علم کے مطابق میرا زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے وفات دے اس وقت جب تیرے علم کے مطابق میرا مر جانا میرے لیے بہتر ہو۔ سنن نسائى، كتاب صفة الصلاة، نوع آخر (من الدعاء)، حديث: 1305 صحيح۔ مسند احمد بن حنبل: 264/4، حديث: 18351

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 127

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ