سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(73) برتن میں قرآنی آیات لکھ کر پانی ڈال کر پینا

  • 17680
  • تاریخ اشاعت : 2016-12-27
  • مشاہدات : 283

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا کسی مریض کے لیے جائز ہے کہ برتن میں قرآنی آیات لکھے، پھر انہیں دھو کر پی لے ۔؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کسی مریض کے لیے جائز ہے کہ برتن میں قرآنی آیات لکھے، پھر انہیں دھو کر پی لے ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس بارے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا ہے۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ سلف کی ایک جماعت یہ جائز سمجھتے تھے کہ مریض کے لیے کچھ قرآنی آیات لکھی جائیں اور پھر وہ انہیں دھو کر پی لے۔ امام مجاہد اور ابو قلابہ رحمہما اللہ سے ایسے ہی منقول ہے۔ جناب ابن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے ایک خاتون کے متعلق جو زچگی کی تنگی میں تھی، کہا کہ اس کے لیے کچھ قرآنی آیات لکھی جائیں اور پھر دھو کر اسے پلا دی جائیں۔ اور توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ و صلى الله على محمد (محمد بن ابراہیم آل الشیخ)

               ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 126

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ