سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(68) قرآنی آیات کندہ والی چیز کو لٹکانا

  • 17675
  • تاریخ اشاعت : 2016-12-27
  • مشاہدات : 266

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
 بازاروں میں کچھ ایسی دھاتی چیزیں ملتی ہیں جو بعض اوقات چاند وغیرہ کی شکل میں ہوتی ہیں، ان پر کچھ قرآنی آیات کندہ ہوتی ہیں اور اس غرض سے فروخت کی جاتی ہیں کہ بچوں کو بطور تمیمہ لٹکا دی جائیں تو انہیں نظر بد اور ڈر خوف سے بچاؤ رہتا ہے، ان کا شرعی حکم کیا ہے۔؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 بازاروں میں کچھ ایسی دھاتی چیزیں ملتی ہیں جو بعض اوقات چاند وغیرہ کی شکل میں ہوتی ہیں، ان پر کچھ قرآنی آیات کندہ ہوتی ہیں اور اس غرض سے فروخت کی جاتی ہیں کہ بچوں کو بطور تمیمہ لٹکا دی جائیں تو انہیں نظر بد اور ڈر خوف سے بچاؤ رہتا ہے، ان کا شرعی حکم کیا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

الحمدللہ! امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اپنی مسند میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث لائے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من تعلق تميمة فلا أتم الله له ، ومن تعلق ودعة فلا ودع الله له (مسند احمد بن حنبل: 4/154، حديث: 17440۔ المستدرك للحاكم: 4/240، حديث: 7501۔)

"جس نے کوئی تمیمہ لٹکایا، اللہ اس کا مقصد پورا نہ کرے، اور جس نے کوڑی وغیرہ لٹکائی اللہ اس کا مرض دور نہ کرے۔"

اور مسند احمد میں ایک اور روایت میں ہے کہ "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جماعت آئی تو آپ نے ان میں سے نو آدمیوں کی بیعت قبول فرما لی اور ایک بیعت نہ لی۔ انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے نو سے بیعت لے لی ہے اور اس کی بیعت نہیں لی، تو آپ نے فرمایا کہ اس پر تمیمہ ہے، چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ ڈالا اور تمیمہ توڑ ڈالا، تب آپ نے اس سے بھی بیعت لے لی، اور فرمایا: "جس نے کوئی تمیمہ لٹکایا اس نے شرک کیا۔" (مسند احمد بن حنبل: 4/156، حديث: 17458۔ المستدرك للحاكم: 4/243، حديث: 7513۔) (محمد بن ابراہیم آل الشیخ)

               ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 122

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ