سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(66) دم کرنا اور قرآنی آیات گردن میں لٹکانا

  • 17673
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-02
  • مشاہدات : 1214

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دم کرنے کا کیا حکم ہے اور قرآنی آیات لکھ کر مریض کی گردن میں لٹکانا کیسا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس مریض پر جادو ہوا ہو یا کسی اور مرض میں مبتلا ہو اس پر دم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ قرآن کریم کی آیات ہو یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعائیں ہیں۔ صحیح ثابت ہے کہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو دم کیا کرتے تھے۔ (صحيح البخاري ، كتاب الطب، باب رقية النبى صلى الله عليه وسلم، حديث 5412)ان میں سے ایک دَم کے الفاظ یہ ہیں:

رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ ، أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ ، فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الأَرْضِ ، وَاغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ ، فَأَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ (سنن ابى داؤد، كتاب الطب، باب كيف الرقى، حديث: 3892)

’’ہمارا رب وہ ہے جو آسمان پر ہے، تیرا نام بڑا مقدس ہے۔ تیرا حکم آسمان اور زمین میں نافذ ہے جیسے کہ تیری رحمت آسمان میں ہے، سو تو اپنی رحمت زمین میں بھی کر دے، اپنی رحمت میں سے کچھ صحت اور کچھ شفا اس دکھ پر بھی فرما دے۔‘‘

چنانچہ اس سے بیمار شفایاب ہو جایا کرتے تھے۔ ان مسنون دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے:

بسم الله يشفيك بسم الله ارقيك (سنن ترمذى، كتاب الجنائز، باب التعوذ للمريض، ححديث 972 صحيح۔ مسند احمد بن حنبل: 332/6، حديث: 26864)

’’اللہ کے نام سے، وہ تجھے شفا دے، اللہ کے نام سے، میں تجھے دم کرتا ہوں۔‘‘

اور ایک یہ بھی ہے کہ انسان دکھ والی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھے اور یہ دعا پڑھے:

أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر (سنن ابن ماجه: كتاب الطب، باب ما عوذ به النبى، حديث 3522۔ صحيح ابن حبان: 230/7، حديث: 2964، صحيح على شرط البخارى)

’’اللہ کی ذات اور اس عزت کی میں پناہ چاہتا ہوں اس دکھ تکلیف سے جس میں میں مبتلا ہوں اور جس کا مجھے اندیشہ ہے۔‘‘

اس کے علاوہ اور بھی بہت سی دعائیں ہیں جو احادیث میں وارد ہیں اور اہل علم نے بیان کی ہیں۔

مگر ان آیات و اذکار کا لکھ کر لٹکانا، تو اس میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ کچھ جائز سمجھتے ہیں اور کچھ ناجائز کہتے ہیں۔ تاہم ان کا ناجائز ہونا ہی راجح ہے۔ کیونکہ یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ آپ سے صرف اتنا ہی ثابت ہے کہ آپ مریض پر دم کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کا لکھ کر مریض کی گردن یا بازو میں باندھنا، لٹکانا یا تکیے کے نیچے رکھنا وغیرہ ایسے امور ہیں کہ ان کا کوئی ثبوت نہیں اس لیے ان کا ممنوع ہونا ہی راجح ہے۔ انسان کسی چیز کو دوسری کے لئے شریعت کی اجازت کے بغیر سبب بنائے تو اس طرح کا کام شرک کی ایک قسم شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس میں ایک چیز کے سبب ہونے کا اثبات و دعویٰ کیا جاتا ہے جسے اللہ نے سبب نہیں بنایا۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 119

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ