سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(57) بدعات کا بیان

  • 17664
  • تاریخ اشاعت : 2016-12-27
  • مشاہدات : 479

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بدعت کے بارے میں وضاحت سے ارشاد فرمایا جائے، جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

"بدعت" دین میں نئی بات نکالنے کو کہتے ہیں۔ دین محض وہی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب و سنت کے اندر بیان فرما دیا ہے، اور یا جو کتاب و سنت کے دلائل سے ماخوذ ہے تو وہ بھی دین ہے، اور جو ان کے خلاف ہو وہ بدعت ہے۔ بدعت کے متعلق یہی جامع بات ہے۔ بدعت کی دو قسمیں ہیں:

(1)اعتقادی بدعات:

اور انہیں قولی بدعات بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی کسوٹی اور معیار سنن میں وارد وہ حدیث ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ: "یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور سبھی آگ میں جائیں گے، سوائے ایک کے۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کون ہوں گے اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: وہ جو اس طریقے پر ہوئے جس پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں!"( المستدرك للحاكم: 1/218، حديث 444 وسنن ترمذى: كتاب الايمان، باب افتراق الامة، حديث 2641۔)

تو صحیح اہل السنۃ وہی ہیں جو بدعات سے محفوظ ہیں اور جنہوں نے وہی طریقہ مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ تھے۔ ان تمام امور میں جن کا تعلق اصول توحید، رسالت، تقدیر اور ایمانیات سے ہے۔

ان کے علاوہ دوسرے تمام فرقے خوارج، معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، رافضہ اور مرجئہ وغیرہ جو اہل السنہ سے علیحدہ ہوئے ہیں یہ سب اعتقادی بدعات کے مرتکب ہیں اور ان کے متعلق احکام اہل السنہ کے اصول دین کے ساتھ قرب و بعد کے لحاظ سے مختلف ہیں، یا جیسے کہ ان کے عقیدے یا تاویلات وغیرہ ہیں یا جس قدر اہل السنہ ان کے قولی و فعلی شر سے محفوظ ہیں۔ اور اس اختصار کی تفصیل بڑی طویل ہے۔

(2) دوسری قسم عملی بدعات ہیں:

یعنی دین کے اندر کوئی ایسی عبادت نکال لی جائے جو اللہ اور اس کے رسول سے ثابت نہ ہو۔ اور ہر ایسی عبادت جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واجب یا مستحب ہونے کا حکم نہیں دیا ہے وہ عملی بدعت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی زد میں آتی ہے:

مَنْ عَمِلَ عَمَلاً ليسَ عليه أمرُنا هذا فهو رَدٌّ

"جو کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو تو وہ مردود ہے۔"( المستدرك للحاكم: 1/218، حديث 444 وسنن ترمذى: كتاب الايمان، باب افتراق الامة، حديث 2641۔)

اسی وجہ سے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر کے نزدیک یہ اصول و قاعدہ ہے کہ عبادات میں اصل منع ہے۔ یعنی کوئی عبادت نہین کی جا سکتی جب تک کہ اس کے متعلق اللہ اور رسول کا ارشاد نہ ہو۔ اور اس کے بالمقابل عبادات اور معاملات بنیادی طور پر سب ہی حلال اور جائز ہیں سوائے ان کے جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام بتایا ہو۔

اور یہی وجہ ہے کہ کمی علم کی بناء پر کئی عادات کو کچھ لوگوں نے بدعت بنا ڈالا ہے حالانکہ وہ عبادت کے کام نہیں ہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے یعنی اصل حرمت عبادات میں ہے۔ تو جو آدمی عادات سے منع کرتا ہے اور انہیں حرام بتاتا ہے وہ بدعتی ہے اور عادات و معاملات کی کئی قسمیں ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو خیر اور اطاعت کے امور میں معاون اور مددگار ہوتی ہیں۔ ایسی عادات قربتِ الٰہی میں شمار ہوتی ہیں اور جو گناہ اوت تعدی کا باعث بنیں وہ حرام ہوتی ہیں۔ اور جو نہ ان میں سے ہوں اور نہ ان میں سے تو وہ مباح اور جائز ہوتی ہیں۔ واللہ اعلم (عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی)

               ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 110

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ