سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(227) رسمِ پیری و مریدی کو چھوڑ کر قرآن و حدیث پر عامل ہونا

  • 17553
  • تاریخ اشاعت : 2016-12-25
  • مشاہدات : 326

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر کوئی شخص ملک بنگال کی موجودہ رسم پیری ومریدی کی ماتحتی میں نہ رہ کر مستند علماء کرام سے فتاوی طلب کرکے موافق قرآن وحدیث عامل ہو تو عند الشرع اس کےلیے کیا حکم ہے؟نیز اس کےساتھ کھانا بینا وغیرہ اسلامی معاملات رکھنے جائز ہیں یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی شخص ملک بنگال کی موجودہ رسم پیری ومریدی کی ماتحتی میں نہ رہ کر مستند علماء کرام سے فتاوی طلب کرکے موافق قرآن وحدیث عامل ہو تو عند الشرع اس کےلیے کیا حکم ہے؟نیز اس کےساتھ کھانا بینا وغیرہ اسلامی معاملات رکھنے جائز ہیں یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جوشخص بنگال کی موجودہ پیری مریدی سےالگ تھلگ رہ کر مستند اورمعتبر علماء سے فتاوی طلب کرکے قرآن وحدیث پر عمل کرتا ہے وہی سچا اوربختہ مسلمان ہے اوروہی صحیح راستہ پر ہے۔اس کے ساتھ کھانے بینے کےاوردوسرے اسلامی تعلقات نہیں رکھے جائیں گے تو پھر کس کےساتھ رکھے جائیں گے؟ایسےشخص کابائیکاٹ قطعا ناجائز اورنادرست ہے۔اگر ایسے شخص سے اسلامی تعلقات اورمعاملات نہیں رکھے گئے تو سب کےسب گنہگار ہوں ہوں گے۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 2۔کتاب الإمارة

صفحہ نمبر 431

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ