سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(134) حاکم شرع کے قائم مقام فسخ نکاح کر سکتا ہے؟

  • 17460
  • تاریخ اشاعت : 2016-11-29
  • مشاہدات : 210

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جواب میں ہندہ کےدوسرےنکاح کی نسبت جوصورت جواز کی تحریر فرمائی گئی ہےیہاں وقوع میں نہیں آسکتی ۔کیوں کہ ہمارے اس دیار میں کوئی حاکم شرح سلطان یا قاضی نہیں ہے اب سوال یہ ہے کہ افسران شہر یاعلماء کرام حاکم شرع کےقائم مقام ہوکر فسخ نکاح وغیرہ احکام حاکم شرع انجام دےسکتے ہیں؟مع ثبوت تحریر فرمائیے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

افسران شہر مسلمین یاعلماء کرام سے جن کوجن کوفریقین اپںا اپنا نیچ مان لیں گے حاکم شرع کےقائم مقام ہوکر فسخ نکاح وغیرہ احکام انجام دے سکتے ہیں۔اوراگر فریقین کی قوم میں سابق کےمانے ہوئےنیچ چلے آتے ہوں اورقوم نےاون کواس کام کے مقدمات فیصل کرنے کا اختیار دے رکھا ہوتو وہ بھی کافی ہیں ۔بدایہ میں ہے:واذا حكم رجل فحكم بينهما ورضيا بحكمه جاز لأن لهما ولاية على انفسهما فصح تحكيمهما وينفد حكمه عليهمااور کفایہ میں ہے۔والاهل فيه قوله تعالى : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا)والمرادمنه تحكيم الزوجين لاختيار الفرقه والصحابة كانوامجمعين على جواز التحكيم والله اعلم بالصواب

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 2۔کتاب الطلاق

صفحہ نمبر 277

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ