سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(99) علاتی بہن بھائی کا آپس میں نکاح

  • 17425
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-15
  • مشاہدات : 725

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص کی ایک منکوحہ بیوی سےایک بالغ لڑکا ہے۔اس بیوی کا انتقال ہوگیا ۔دوسری شادی شخص مذکورہ نےدوسری عورت سے کی ۔اب ایک بالغہ لڑکی اس دوسری عورت سے شخص مذکور کےتعلق سےموجود ہے۔اب لڑکا بالغ مذکور ارو لڑکی مذکورہ کاباہم نکاح جائز ہے کہ نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حنفیہ اورحنابلہ کےنزدیک اپنےلڑکے کانکاح اپنی مزنیہ کی اس لڑکی سےجوبذریعہ زنا اپنےنطفہ سے پیدا ہوئی ہوناجائز ہےکیوں کہ ان کےنزدیک زناحرمت ثابت  ہوجاتی ہے۔پس یہ لڑکی کی سوتیلی بہن ہوئی اورسوتیلی بہن سےنکاح کرنا جائز نہیں ہےاورامام شافعی ومالک کےنزدیک اس لڑکے کانکاح اس لڑکی سےجائز ہے:أنها اجنبية عنه ولاتنسب إلى ابيه شرعا ولايجرى التوارث بينهما والاتلزمه نفقتها فلم تحرم عليه ولا ابنه كسائر الاجانب .احتیاط کاتقاضہ یہ ہے کہ لڑکا اس لڑکی سےنکاح نہ کرے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 2۔کتاب النکاح

صفحہ نمبر 221

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ