سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(84) خطبہ نکاح میں کلمے پڑھنا

  • 17410
  • تاریخ اشاعت : 2016-11-27
  • مشاہدات : 303

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہندہ کاشوہر مرجانےکےچاربرس بعد اس کے سسر نےبرادری کےلوگوں کو اکٹھا کرکے ہندہ پرزور ڈالاکہ وہ اپنے مرحوم شوہر کےچھوٹے بھائی کےساتھ نکاح کرے چوں کہ اس کایہ دیور بہت نالائق ہےاس لئے وہ انکار کرتی رہی۔بالاآخر لوگوں کےزیادہ دباؤ ڈالنے سےاوپر ولی سےراضی ہوگئی لیکن نکاح خواں سےکہا کہ:تم آگے آگےکلمے پڑھتے جانامیں آہستہ منہ پڑھوں گی کیوں کہ اونچی آوازسے کہنےمجھ شرم آتی ہےاس طر ح اس کانکاح کردیا گیا اور اب اس کےیہاں لڑکا پیدا ہوا ہے لیکن اب ہندہ یہ کہتی ہےکہ :میں نےکلمےمنہ بھی نہیں پڑھے تھے۔سوال یہ ہےکہ ایسی حالت  نکاح درست ہوایا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

نکاح عورت کی عبارت (ایجاب وقبول) پر موقوف نہیں ہے بلکہ اس کی عبارت سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوگااس لئے عورت کاایجاب وقبول کےکلمات اونچی آواز سے یا منہ میں آہستہ کہنا فضول اور لغو ہے۔نکاح صحیح اورمنعقد ہونےکےلئے عورت کی رضا  مندی اوراجازت اور اس کی طرف  سے اس کےولی کی عبارت (ایجاب وقبول) کااصالہ یاوکالۃ ضروری ہےپس جب ہند نے  رضا مندی ظاہر کردی اورنکاح کی اجازت دے دی اس کےبعد اس کےولی نے)باپ ہو یاداد یابھائی یاچچا اوراگر کوئی رشتہ دار نہیں تھا تو گاؤں کےسردار نےولی بن کر) اس کانکاح اس کےدیور سےکردیا تویہ نکاح صحیح اوردرست ہوگیا ۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 2۔کتاب النکاح

صفحہ نمبر 208

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ