سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(57) فرضیت حج کے لیے عورت کے ساتھ محرم کا ہونا

  • 17383
  • تاریخ اشاعت : 2016-11-26
  • مشاہدات : 256

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عورت پر فرضیت حج کےلئے اس کے ساتھ محرم کاہونا بھی شرط ہے۔ جیسے:زادوارحلہ۔یعنی:اگر اس کےساتھ جانے والا شوہر یامحرم موجود نہ ہوتو عورت  پر حج فرض ہوگایا نہیں؟

(2)اگر عورت بغیر محرم کےحج کرآوے توکیا فرضیت حج ساقط ہوجائےگی یعنی:پھر اگر کبھی محرم اس کےساتھ جانے والا ہو اور زادوراحلہ بھی ہو تواس پر حج فرض تونہ ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

امام احمد اور امام ابوحنیفہ کےنزدیک عورت پر فرضیت کے لئے شوہر یا محرم کاموجود  ہونا  زادوراحلہ کی شرط ہے۔بغیر شوہر اورمحرم کےوجود کےعورت پر حج فرض نہیں ہوگا اگر وہ بغیر  محرم یا شوہر کے حج کوچلی جائےتو امام احمد کےنزدیک یہ حج اس کو کفایت کرجائے گا۔قال فى الروض المربع(527):وأن حجت بدونه حرام واجزا انتهى

ان دونوں اماموں کانزدیک عورت کےحق میں استطاعت مشروط فی القرآن سےمرادزادوراحلہ اورمحرم کامجموعہ ہے اورآنحضرت ﷺ نےفرمایا:لاتحج امرأة الامراة الاومعها محرم فقال رجل :يا نبى الله انى اكتتبت فى  غزوة كذا وكذا......اخرجه البزار عن ابن عباس قال الحافظ فى الدراية(6/4):واخرجه الدار قطنى بنحوه واسناده صحيح وهو فى الصحيين من هذا الوجه بلفظ لاتسافر انتهى وقال فى الفتح :صح حديث الدارقطنى ابوعوانه علامہ شوکانی کامیلان اس قول کی طرف ہے۔کمايخفى على من طالع النيل- اورامام مالک اور امام شافعی کےنزدیک عورت کےلئے زادوراحلہ کے ساتھ محرم یاشوہر کی ضرورت تو ہے لیکن جس عورت کاخاوند یامحرم موجود نہ ہو یاہو لیکن ساتھ جانے سے انکار کردے یاجانےسےعاجز ومعذرت ہو تو ایسی عورت دیندار ثقہ عورتوں کی جماعت کےساتھ جواپنے شوہروں یامحرموں کےساتھ حج کوجاری ہوں چلی جائے۔ ان دونوں اماموں کےنزدیک ثقہ دیندار  عورتوں کی جماعت شوہر یامحرم کےقائم مقام ہوجائے  گی یعنی: جس عورت کوزادوراحلہ بر قدرت ہو اورمحرم یاشوہر موجود نہ ہو لیکن مومن ثقہ عورتوں کی جماعت عازم موجود ہے تو اس پر حج فرض ہوجائے گا۔غرض کہ ان کےنزدیک عورت پر فرضیت حج کے لئے محرم یا شوہر شرط نہیں ہے ۔کما صرح بذلک ابن رشد النووى قدامه.............اس دوسرے مذہب پر نودلیلیں بیش کی جاتی ہیں۔............ میرے نزدیک دوسرا مذہب راجح ہےیعنی وہ عورت جو زادوراحلہ پر قدرت رکھتی ہو لیکن اس محرم یاخاوند موجود نہ ہو۔وہ دیندار متقی عورتوں کےساتھ جو اپنے شوہروں یامحرموں کی معیت میں حج کو جارہی ہوں چلی جائے۔لوقوع اجماع الصحابة فى عهد عمر على جواز سفر المراة للحج من غير زوج اومحرم رہ گئی حضرت ابن عباس ﷢ کی مرفوع حدیث:لاتحج امرأة ومعها محرم تواولا:یہ حدیث صحاح میں بجائے اس لفظ کےلاتسافر امرأة کے لفظ صرف بزار اوردارقطنی کی روایت میں لاتحج کالفظ وارد ہے اور اس کی سند بقول حافظ اگرچہ صحیح ہے لیکن  صحت متن کومستلزم نہیں ہےاور ثانیا :اگر یہ لفظ لاتحج محفوظ ہوتو اس کو نفلی حج پر محمول کریں گے۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 2۔کتاب الحج

صفحہ نمبر 170

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ