سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(282) نومولود بچے کا جنازہ

  • 17304
  • تاریخ اشاعت : 2016-10-31
  • مشاہدات : 291

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 بچہ زندہ پیدا ہورہا ہےلیکن گردن مخرج میں پھنس گئی ، باہر آیا وقت مردہ تھا کیا اس کاجنازہ پڑھاجائے گا یا ’’ إن استهل ،، پرعمل ہوگا ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال سےبظاہریہ معلوم ہوتاہےکہ بچہ کی پیدائش اس کےپاؤں کی طرف سےشروع ہوئی اورکمر وسینہ تک باہر آنے کےبعد اس کی گردن مخرج میں پھنس گئی،اگر یہی صورت ہوئی ہےاوراس امرکایقین تھا کہ گردن کےمخرج میں پھنسنے سےپہلے بچہ زندہ تھا اور پھنسنے کےبعد مرااورمرکرباہر آیا ، تواس پرنماز جنازہ پڑھی جائے گی کیوں کہ اکثر حصہ بدن کےخارج ہونےتک وہ زندہ تھا وللاكثر حكم الكل –’’وإذا مات  حال ولادة ، فإن كان خرج أكثر ه صلى عليه ، وإن كان  أقله لم يصله عليه ، ,إن خرج نصفه لم يذكر فى الكتاب ويجب أن يكون هذا على قياس ماذكرنا من الصلوة على نصف الميت كذا فى الدائع (عالمگیری 1؍ 130 ) اور اگرسر کی طرف سےزندہ پیدا ہورہاتھا اورگردن مخرج میں پھنس گئی اس کےبعد مرکرباہرآیا،تواس پرجنازہ نہیں پڑھاجائےگا ۔’’ فلو خرج رأسه وهو يصيح ثم  مات ، لم يرث ولم يصل عليه ، مالم يخرج أكثربدنه حيا، وحدالأكثرمن قبل الرجل سرته ومن قبل الرأس صدره ، ، (رد المختار1/ 93 ) .

حديث سےمعلوم ہوتاہےکہ جنازہ کےلیے استہلال یعنی : پیدا ہونےکےبعد بچے میں زندگی کی علامت کاپایا جانا شرط ہے،پس اگر اکثر حصہ خارج ہونے کےبعد مرا ہےتوللأكثر حكم الكل کے مطابق اس پرصلوۃ جنازہ ادا کی جائے گی ۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 1۔کتاب الجنائز

صفحہ نمبر 436

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ