سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(274) وتروں میں امام کا دعا کرنا اور مقتدی کا آمین کہنا
  • 1730
  • تاریخ اشاعت : 2026-02-27
  • مشاہدات : 3456

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

انفرادی صورت میں یا امام کے ساتھ وتروں کی نماز میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا اور مقتدیوں کا صرف امام کے ساتھ آمین کہنا کیا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میرے علم میں تو یہ چیزیں پایہ ثبوت کونہیں پہنچتیں ہاں وتر میں دعائے قنوت رسول اللہ ﷺ سے قولاً وفعلاً ثابت ہے۔(1)

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب


(1)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیﷺنے ایک ماہ مسلسل پانچوں نمازوں کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد دعا قنوت پڑھی جس میں بنی سلیم ، رعل ، ذکوان عصیہ قبائل (جنہوں نے قراء کو شہید کر دیا تھا) پر اونچی آواز میں بددعا کی اور مقتدی آمین آمین پکارتے تھے (قیام اللیل للمروزی ۲۳۵) قنوت وتر بھی قنوت نازلہ کی طرح دعائیہ کلمات پر مشتمل ہے دونوں نماز کی آخری رکعت میں ہی کیے جاتے ہیں اس حدیث کی روشنی میں جماعت کی صورت میں اگر اونچی آواز سے امام دعا کرے گا تو مقتدی بآواز بلند آمین کہہ سکتے ہیں۔

احکام و مسائل

نماز کا بیان ج1ص 222

محدث فتویٰ

تبصرے