سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

عورت کا زیورات میں غیرمسلموں کاشعار اختیار کرنا

  • 173
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-05
  • مشاہدات : 1370

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہمارے یہاں شادی کے بعد مسلمان عورت ایک قسم کا زیور پہنتی ہے جس کو لچھا کہا جا تا ہے۔ یہ عورت کے شادی شدہ ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اور اس زیور کو کالی ماتہ کابھی زیور کہا جاتا ہے،کیا یہ پہننا جائز ہے۔؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے یہاں شادی کے بعد مسلمان عورت ایک قسم کا زیور پہنتی ہے جس کو لچھا کہا جا تا ہے۔ یہ عورت کے شادی شدہ ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اور اس زیور کو کالی ماتہ کابھی زیور کہا جاتا ہے،کیا یہ پہننا جائز ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نےغیر مسلموں کے شعائر اختیار کرنے سے منع کیا ہے اور ایسے مسلمانوں کو تنبیہ کی ہے جو غیر مسلموں کے شعائر اختیار کرتے ہیں۔ صورت مسئولہ میں اگر تو واقعتا ایسا ہے کہ زیورات کی یہ جو صورتیں متعین ہیں اور ہندو مذہب میں بطور شعائر معروف ہیں تو ان سے مسلمان عورتوں کو اجتناب کرنا چاہیے۔ یہاں کسی مولوی صاحب کے کہنے کا اعتبار نہیں ہو گا بلکہ آپ کو خود یہ سروے کرنا ہو گا کہ زیورات کی یہ دو قسمیں ہندو مذہب میں عورتوں کا مذہبی شعار ہیں یا نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو ممنوع ہے اور اگر نہیں ہیں تو محض مخصوص ڈیزائن کے زیورات اگر غیر مسلم عورتیں پہنتی ہوں تو ان کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ