سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(262) فرض نماز کے سلام کے بعد چندہ اکٹھا کرنا

  • 17284
  • تاریخ اشاعت : 2016-10-25
  • مشاہدات : 791

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتےہیں علماءدین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں :

موجودہ زمانے میں بعض مساجد میں ہرجمعہ کوفرض نماز کےسلام کےمعاًبعد،ایک یا دوآدمی نمازیوں کےسامنے ڈبہ  کھڑگھڑاتےہوئےچلتےہیں تاکہ انہیں چندہ مل جائے۔یہ چہل قدمی مصلیوں کےاذکار وادعیہ میں ذہنی انتشار کاموجدب ہوتی ہے۔پیسے والے چند پیسے ڈبہ میں ڈالتےرہتےہیں ۔کیا اس طرح بالالتزام چندہ کرنا عندالشرع جائز ودرست ہے؟

کیا دوررسالت سے لےکر خلفاء راشدین تک فرض نماز جمعہ کےسلام کےمعاًبعد،مذکورہ طور پربالتزام چندہ کرنے کی نظیر ملتی ہے؟

نماز مفروضہ کےسلام کےبعد اذکاروادعیہ کامسنون ہوناثابت ہےیانہیں ؟ اگرہےتواذکار وادعیہ قلیلہ کاترک اورچندے کی فوقیت وترجیح کس حدتک عندالشرع درست وجائز  ہے؟ بينوا وتوضحوا توجروا عندالله


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسجد میں کسی حاجت مند کاسوال کرنا گوشرعا جائز ہے،جیسا کہ سنن ابوداؤد میں ’’باب المسئلۃ فی المسجد ،، کےماتحت روایت کردہ حدیث سےاس کاجواز ثابت ہوتاہے۔لیکن سوال میں چندہ مانگنے کی مذکورہ صورت یعنی : فرض نما ز جمعہ سےسلام پھیرنے کے فوراً بعد یا دومنٹ کےبعد، دوایک آدمیوں کاصفوں  کےدرمیان مصلیوں کےسامنے ڈبہ کھڑ گھڑاتے  ہوئے ، اس لیے گزرنا کہ مصلیان اس میں کچھ پیسے ڈال دیں یہ طریقہ مطلقاً مکروہ ومذموم ہے، چاہے کبھی کبھار ایسا کیا جائے یاہرجمعہ کوالتزام ، اس طرح چندہ مانگا جائے۔ عہد نبوت وعہد صحابہ کرام میں اس طرح چندہ مانگنے کاکہیں اتہ پتہ نہیں ملتا ۔ نیز سلام کےبعد صفوں کےدرمیان مقتدیوں کےسامنے اس طرح ڈبہ کھڑگھڑاتے ہوئے چندے سےفرض نماز کےبعد جواذکار مشروع ہیں ان میں خلل پڑٹا ہےاورانتشار پیدا ہونا بالکل ظاہر ہے۔بنابریں  سوال میں چندہ مانگنا ہی  ہے،تومسجدسےباہر نکلنے کی جگہ کےقریب بندڈبہ رکھ دیا جائے تاکہ اس میں چندہ ڈالنے والے پیسے ڈال دیا کریں ۔ هذا ماظهرلى والعلم عندالله تعالى .

                املاه عبيدالله رحمانى مبارکپوری 2؍ صفر1396 ھ

٭ نماز اور دعائے مسنون سےفارغ ہونے کےبعد مسجد میں چندہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن صورت مسئولہ میں وہ جواب بالکل صحیح ہے جوحضرت شیخ الحدیث صاحب نے تحریر فرمایا ہے۔

عبدالغفور بسکوہری 19؍ مارچ 1976 ء مطابق 19؍صفر 1396ھ محدث بنارس ،(شیخ الحدیث نمبر )  1997 ء

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 1

صفحہ نمبر 419

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ