سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(239)نماز وتر میں ’’ قنوت ،، کا بھو ل جانا

  • 17259
  • تاریخ اشاعت : 2016-09-21
  • مشاہدات : 704

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

  نماز وتر میں ’’ قنوت ،، سےمتعلق استفسارکیا گیا تھا کہ اگر کوئی شخص قنوت پڑھنا بھول جائے توکیا اس پر’’ سجدہ سہو ،، لازم ہوگا؟ 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

٭  نماز وتر میں ’’ قنوت ،، سےمتعلق استفسارکیا گیا تھا کہ اگر کوئی شخص قنوت پڑھنا بھول جائے توکیا اس پر’’ سجدہ سہو ،، لازم ہوگا؟

اور سجدہ سہو نہ کرنے کی صورت میں نمازمیں کچھ خلل کااندیشہ ہے؟ اس سلسلہ میں فقہاءء ومحدثین کےاقوال کےساتھ  خودشیخ الحدیث ﷫ کی رائے بھی دریافت کی گئی تھی ، اس کامفصل جواب موصول ہواتھا جودرج ذیل ہے:

’ ’ حنفیہ کےنزدیک وتر میں سہو یعنی : بھول کرقنوت کی دعا چھوڑدینے سے’’سجدہ سہو،،لازم ہے۔ اس لیے کہ ان کےیہاں ’’قنوت  فی الوتر،، واجب ہےاور’’ترک واجب،، جوسہوہوسجدہ واجب ہوجاتاہے ۔ وجوب کی دلیل بالفاظ صاحب ہدایہ یہ ہے:قوله عليه السلام للحسن بن على حين علمه دعاء القنوت : ’’اجعل هذا فى وترك،،( ہدایہ 1؍ 125 ) ۔

حافظ زیلعی نصب الرایہ 2؍ 126 تخریج احادیث ہدایہ میں لکھتےہیں :’’ وصاحب الكتاب استدل بهذا الحديث وإطلاقه على وجوب القنوت فى السنة كلها ، وهو قوله : وجعل هذا فى وترك من غير فصل ،، .

یعنی  : صیغہ امرکےساتھ  ارشاد فرمانا وجوب قنوت کی دلیل ہے، لیکن حضرت حسن بن علی  ( رضی اللہ عنہما )  کی حدیث باتب ’’ قنوت وتر،، جن کتابوں میں مروی ہے،مثلا:مسنداحمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ، المنتفی لابن الجارود،مستدرک حاکم ، بیہقی ، مسند بزار وغیرہ   .

ان میں سے کسی  کتاب میں صاحب ہدایہ کےمذکورہ الفاظ نہیں ہیں ، اس لیے زیلعی لکھتےہیں :’’ ولم أجد هذا (اللفظ ) فى الحديث ،، ۔

امام شافعی اورجمہور شافعیہ صرف رمضان کےنصف ثانی میں استحباب’’قنوت فی الوتر،،کےقائل ہیں اور اس کےترک پرسجدہ سہو کےبھی قائل ہیں ۔

امام نووی روضۃ الطالبین ص: 330 میں لکھتےہیں :’’  ولوترك القنوت فى موضع نستحبه (وهو النصف الثاني من رمضان ) سجد للسهو، ولوقنت فى غير النصف من رمضان ، وقلنا لا يستحب ، سجد للسهو ، وحكى الرؤيانى وجها، انه يجوز القنوت فى جميع السنة بلاكراهة، ولا يسجدللسهو بترك فى غيرالنصف ، قال : وهذا اختيار مشائع طبرستان واستحسنه .،،(انتهى) .

امام اوزاعي اوراسماعيل بن عليه سجده سہو کےقائل نہیں ہیں اور حماد بن سلمہ ،سفیان ثوری ، ہیثم ، سجدہ سہو کےقائل ہیں ، حضرت حسن بصری سے ایک روایت ہے:’’إذانسى القنوت فى الوتر سجد سجدتى السهو، وفى رواية : إن قنت يعنى فى الوتر فحسن ، وإن يقنت فليس شئى .،، (كذا فى قيام الليل مع كتاب الوتر للمروزى ص : 141  ) .

 حنابلہ پورا سال قنوت فی الوتر کی مسنونیت کےقائل ہیں ، ابن قدامہ لکھتےہیں ژ:’’إن القنوت مسنون فى الوتر فى الركعة الواحد فى جميع السنة ، هذا المنصوص عند أصحابنا ،،الخ(المغنى 2/ 580 )-

امام احمد ترك قنوت پرسجدہ سہو کےقائل معلوم ہوتےہیں ۔امام مروزی لکھتےہیں :’’ وعن أحمد ان كا ن ممن تعود القنوت فليسجد سجدتى السهو،، (قيام الليل ص:141)-

ہمارے نزدیک ’’قنوت الوتر، ، واجب نہیں ہےبلکہ پورا سال  محض سنت ہے،لیکن دیدہ  ودانستہ ! یعنی : عمداچھوڑنا نہیں چاہیے ۔اورجب واجب نہیں ہے، تو اس کوعمداونسیانا ترک کردینے سےسجدہ سہوبھی واجب نہیں ہوگا ، اورترک سجدہ سہوسے نماز میں خلل نہیں ہوگا ۔

   (_دستخط) عبيدالله الرحمانى مباركپوری(محدث بنارس اگست 1997ء)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 1

صفحہ نمبر 361

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ