سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(230)سجدہ جاتےہوئے پہلے ہاتھ رکھنے کی حدیث پرکیا کیا قدحین اورجرحین کی گی ہیں ؟

  • 17252
  • تاریخ اشاعت : 2016-09-21
  • مشاہدات : 561

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


سجدہ جاتےہوئے پہلے ہاتھ رکھنے کی حدیث پرکیا کیا قدحین اورجرحین کی گی ہیں ؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سجدہ جاتےہوئے پہلے ہاتھ رکھنے کی حدیث پرکیا کیا قدحین اورجرحین کی گی ہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پہلی جرح : یہ حدیث غریب ہے( یعنی : ایک ہی سند سےمروی ہے) ترمذی فرماتےہیں :’’ غريب لانعرفه من حديث ابى الزناد الا من هذا الوجه،،.

امام بخاری فرماتےہیں :’’ ان محمد بن عبدالله بن حسن بن على لا يتابع عليه، وقال : لاأدرى أسمع من ابى الزناد أم لا ؟ . 

ج : یہ جرح جرح نہیں ، نہ مضر ہے۔ اس لیے کہ محمد بن عبداللہ بن حسن ثقہ ہیں ( تقريب التهذيب ص: 487 )۔خلاصہ کتاب الاعتبار ص ؍:44 ) میں ہے:  ’’ ثقۃ النسائی ،، ( تهذيب الكمال فى اسماء الرجال 25/466 ، تهذيب التهذيب 6/225 ) پس یہ غرابت اورعدم متابعت مضر نہیں رہا۔امام بخاری کایہ فرمانا کہ معلوم نہیں ، انہوں نے ابی الزناد سےسناہےیا نہیں !؟  یہ بھی کچھ مضر نہیں کیونکہ امام بخاری نےاپنا عدم علم بیان کیا ،اورعدم علم سے عدم شئی لاز م نہیں ۔پس اس سےسماعت کی نفی نہیں ہوسکتی ۔اگرچہ یہاں روایت بلفظ ’’عن ،، وارد ہے۔اس لیے کہ مدلس کاعنعنہ مضر ہوتا ہےاورمحمد بن عبداللہ مدلس نہیں ۔

دوسری جرح:’’ قال الدارقطنى : تفردبه الدرارورى عن محمد بن عبدالله المذكور،،( سنن الدارقطنى 1/346 )يعنى :’’ اس حديث كى   سند میں الدراوردی محمد بن عبداللہ سےروایت کرنے میں منفرد ہیں ،، اوران کی نسبت خلاصہ کتاب الاعتبار میں ہے:’’ثقة كثير الحديث يغلط قونه البخارى بأخر،،. ( تهذيب الكمال 18/187-194 ، وقال فيه الحافظ ابن حجر العسقلانى : صدوق كان يحدث من كتب غيره فيخطئى ، قال النسائى : حديثه عن عبدالله العمرى منكر ، ووثقة أيضا مالك يحى ابن معين ، ولم اجدهذا فى كتاب الاعتبار  للحازمى – التقريب ص : 358، )

ج: قال المنذرى فيما قال الدارقطنى فيه نظر ، فقد روى نحوه عبدالله بن نافع عن محمد بن عبدالله ، وأخرجه ابوداؤد والنسائى والترمذى من حديثيه ،، (سنن الدارقطنی 1؍346 ) ، يعنى : ’’ دارقطنی کے اس قول میں ( کہ اس کوصرف درااور دی نےمحمد بن عبداللہ سےیہ روایت کیا ہے) نظر ہے، اس لیے دراوردی کےعلاوہ اس حدیث کومحمد بن عبداللہ سےنافع نےبھی روایت کی ہے، اوراس کوابوادؤد ، نسائی اورترمذی نے روایت کیا ہے(چنانچہ راقم الحروف نےابوداؤد کی روایت بھی نقل کردی ہے)۔

تیسری جرح : من حیث المعنی ہے، وہ یہ ہے’’قال التوربشتى : كيف نهى عن بروك البعير ثم أمر بوضع اليدين قبل الركتبين ؟. والبعير يضع قبل الرجلين !’’ يعنى : ’’ پہلے اونٹ کےبیٹھک سےمنع کیا ، اورپھر حکم دیا کہ پہلے ہاتھ رکھنا  چاہیے ۔حالاں کہ اونٹ بیٹھنے میں  پہلے  ہاتھ رکھتا ہے،، اسی کےقریب وہ جرح ہے، جسے بعض لوگوں نے یہ تعبیر کیا ہےکہ اول حدیث آخر کےمتناقض ہے۔ یابعض لوگوں نےکہاکہ اس حدیث میں انقلاب ہے۔ اصل میں یوں تھا : ولیضع قبل یدیہ ( زاد المعاد 1؍217 ) .

ج: ملاعلی قار ی حنفی اس کےجواب میں فرماتے ہیں :’’ والجواب أن الركبتين من الانسان فى الرجلين ، ومن ذوات الأربع فى اليدين ،، ( مرقاۃ المفاتیح 2؍325، مرعاۃ المفاتیح 3؍217) ، يعنى :’’ اس كاجواب یہ ہےکہ کہ انسان کےپاؤں میں گھٹنا ہوتاہےاورچادپایوں کےہاتھ میں ،، ۔ خلاصہ یہ کہ انسان کےہاتھ میں جس ’’ مفصل ،، کو’’رفق ،، کہتےہیں ، اسی ’’مفصل ،، کو چارپایوں میں ’’رکبہ ،، کہتے ہیں ۔ پس معنی درست اورٹھیک ہوگیا کہ جس طرح اونٹ بیٹھنے  میں اپنا گھٹنا پہلے رکھتا ہے( جواس کےہاتھ میں  ہوتا ہے) ایسا تم مت کرو، بلکہ تم بجائے گھٹنا پہلے رکھنے کےپہلے ہاتھوں کورکھو۔

اوریہ قول ملاعلی قاری کانہایت درست وصحیح ہےکہ (چارپایوں کےاگلے پاؤں میں گھٹنے ہوتےہیں ) اس کی سند میں صحیح بخاری کی وہ حدیث ہے ، جو ہجرت سےتعلق رکھتی ہے۔جس میں سراقہ بن مالک ﷜ کاقول منقول ہے:’’ ساخت يدافرسى فى الأرض حتى بلغتا الركبتين ،، ( بخاری  مع الفتح كتا ب مناقب الانصار باب هجرة النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه الى المدينة (3506 ) 7/38 )

یعنی :’‎’ جب  میں آں حضرت ﷺ کےتعاقب میں چلااور آپ ﷺ کےقریب ہوگیا ، تو آپ ﷺ نےبدعا کی ،اس سے میرے گھوڑے کےاگلے پاؤں زمین میں دھنس گئے ۔یہاں تک کہ  گھٹنوں تک پہنچ گئے ،، ۔

قال فى عون المعبود (3/249 ) : ’’ قلت : إن القول بأن الركبة من ذوات الأربع فى اليدين ، يدل على صحة قو ل سراقة بن مالك : ساخت يدافرسى حتى بلغتا الركبتين فى حديث الهجرة ، رواه البخارى ،، یہیں سےاس کا جواب بھی ہوگیا ، جوعلامہ ابن قیم  نے’’زادالمعاد ،، ( 1؍215) میں لکھا ہےکہ کلام سمجھ میں نہیں آتا اورلغت کےخلاف ہے۔ قال فى العون (3/249 ) : ومن ههنا ظهرأ ن القول بأن الركبة فى ذاوات  الأربع  فى اليدين ، ليس كلاما لايعقل ،ولا يعرفه أهل اللغة ،، كما قال العلامة ابن القيم فى زادالمعاد (1/225 ) .

انقلاب روايت كاجواب بھی  اسی سے ہوگیا کیوں کہ قائلین انقلاب محض عدم تدبر سےانقلاب کےقائل ہوتےتھے ۔اگر تدبر کئے ہوئے تومعنی درست ان کی سمجھ میں  آجاتا تو انقلاب یاتناقض نہ فرماتے ،، ۔

اگر  یہ کہا جائے کہ انقلاب کی تائید اس روایت سےہوتی ہے جوابن ابی شیبہ  میں مروی ہےجس  کےالفاظ یہ ہیں :’’ عن محمد بن فضيل عن عبدالله سعيد عن جده عن ابى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إذا سجد أحدكم فليبدأ بركبتيه قبل يديه ولا يبرك بروك الفحل ،، (  مصنف ابن ابى شيبة 1/263 ، السنن الكبرى للبيقى 2/100 ) اسی سند سےاس کوابن  ابی داوؤد  روایت کرتےہیں ۔

ج :  اس کایہ ہےکہ ان دونوں روایتوں میں عبداللہ  بن سعید ہیں ، جن کی نسبت حاکم جیسے متساہل ’’ ذاہب الحدیث ،، ( تهذيب الكمال 15/33 تهذيب التهذيب 5/209 ) ، امام احمد نے ’’ منکرالحدیث،، ابوزرعہ نے ’’ ضعيف الحديث لا يوقف منه على شئى  (  الجرح التعديل 5/71 ) ، اوريحيى بن معين نے ’’لا یکتب حديثه ، ليس بشئى ،، ( تهذيب الكمال 15/33 )، لکھا  ہے) : جوذرا قابل اعتبار نہیں ہےکہ اس سےانقلاب ثابت ہو ۔

چوتھی جرح : اس روایت میں اضطراب ہے۔

ج : جر ح بھی قابل التفات نہیں ،جرح کرنے والے صاحب نےتدبر سےکام نہیں لیا،کیوں کہ محدثین کی اصطلاح میں   جواضطراب کی تعریف کی ہےاسے دیکھنا چاہیے کہ وہ معنی یہاں پائے جاتے ہیں یانہیں ؟ رہایہ کہنا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دونوں روایتیں آئی ہیں ، غلط ہے۔ کیونکہ  بسند صحیح حضرت ابوہریرہ ﷜ سے سجدہ جاتےہوئے  گھٹنے رکھنے کی روایت نہیں آئی ہےکہ اضطراب ثابت ہو۔

اسی  طرح مدرج کہنا بھی عدم تدبر پر   مبنی ہے، کیونکہ کہ مجرد احتمال سےجوشئی بلادلیل ہو۔یامحض کسی راوی کےمختصر  روایت کرنے سےکسی جملہ کامدرج ہوناثابت نہیں ہوسکتا ۔اس پرمجھے ایک قصہ یاد آیا ، پٹنہ عظیم آباد میں ایک شوق نیموی صاحب حنفیوں کی تائید میں اٹھے تھے ، علاوہ چھوٹے چھوٹے رسالے  آپ نے ایک بڑی کتاب  آثار السنن بھی لکھنا شروع کی تھی ، آپ کوصحیحین  کی حدیثوں کے رد کرنے کا یہی  اضطراب وادراج مل گیا تھا ، جس حدیث کودیکھنا حنفی مذہب کےخلاف ہے،اس کےمختلف الفاظ کودیکھ کرکہہ کہ یہ حدیث مضطرب ہے،یا یہ جملہ مدرج ہے۔

تیسری بحث : بعض لوگوں نےاس حدیث کی نسبت لکھا کہ : یہ حدیث ابن خزیمہ کی حدیث سےمنسوخ ہے:’’ عن مصعب بن سعد بن أبى وقاص عن ابيه قال : كنا نضع اليدين قبل الركبتين ، فأمرناأن نضع الركبتين قبل اليدين ،، ( الاعتبار للحازمى 1/328  ) .

ج : علامہ حازمی  نےکتاب ’’ ناسخ منسوخ ،، میں تحریر فرمایا ہےکہ : اس کےسند میں مقال ہے( صحیح ابن خزیمہ (628) 1؍319 ، سنن الکبری للبیہقی 2؍ 100) ، حافظ ابن حجر فتح الباری (2؍219) میں تحریر فرماتے ہیں :’’ لوصح لكان قاطعا للنزاع ، لكنه من افراد ابراهيم بن اسماعيل  بن يحيي بن سلمة بن كهيل عن أبيه ، هما ضعيفان ،،  يعنى : ’’ اگریہ حدیث صحیح ہوتی توقاطع نزاع ہوجاتی ،لیکن اس کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی بن سلمہ اوران کےباپ منفرد ہیں ، اوروہ دونوں ضعیف ہیں،،۔

اگر کوئی  کہےکہ حدیث ابوہریرہ وابن عمر کی وائل بن حجر والی حدیث سےمنسوخ ہے۔

جواب اس کایہ ہےکہ : نسخ کےلیے شرط یہ ہےکہ ناسخ اورمنسوخ دونوں ایک درجہ کےہوں ، اور ناسخ کامتاخر ہونا متعین ہو، اوریہاں دونوں شرطیں مفقود ہیں :

اولا : تویہ ہےکہ دونوں ایک درجہ کی نہیں ۔وائل بن حجر ﷜ کی حدیث مرجوح ہے۔اوران کی جرحین غیر مدفوع ہیں جیسا کہ ابھی آتا ہے۔

ثانیا : تاریخ معلوم نہیں ۔

چوتھی بحث : کیا حضرت ابوہریرہ اورعبداللہ بن عمر ﷢ کی حدیث (جس میں سجدہ جاتےہوئے پہلے ہاتھوں کےرکھنے کاحکم ہےاورابن عمر کافعل ہےاوروہ آں حضرتﷺ  کافعل بیا ن کرتے ہیں ) سلف میں معمول بہ تھی ،اور اس کےلوگ قائل وعامل تھے یا نہیں ؟ ۔

ج : اس حدیث کےساتھ معمول ہونا حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کافعل (جوسنت کی پابندی میں سخت متشدد تھے ) صحیح بخاری سےمذکورہوچکا اور ابن خزیمہ کی روایت سےیہ بھی مذکور ہوچکا کہ عبداللہ بن عمر نےایسا کرتےہوےآں حضرتﷺ  کودیکھا تھا ۔ امام اوزاعی کہتے ہیں :’’ أدركت الناس يضعون أيديهم قبل ركبهم ،، ( عون المعبود 3؍50 ) ، یعنی :،’’ میں نے تمام لوگوں کوایسے ہی پایا کہ لوگ پہلے سجدہ جاتے ہوئے ہاتھ ہی رکھتے تھے ،،۔ ابوبکر بن داؤد کہتےہیں :’’ هوقول أصحاب الحديث ،، ( تذکرۃ الحفاظ 1؍23، تحفۃ الاحوز ی 2؍31 ) يعنى :’’ یہی اہل حدیثوں کا قول ہے،، ۔اگرچہ علامہ ابن اقیم نے’’ بعض ،، کی قید لگائی ہےتاکہ امام شافعی وغیرہ کومستثنی کریں ۔

عون المعبود (3؍ 50 ) میں ہے :’’ وحديث أبى هريرة يدل على سنية وضع اليدين قبل الركبتين ، وإليه ذهب والازاعى ومالك بن انس وابن حزم فى رواية ، وقال ابوبكر بن أبى داؤد : هذه سنة تفرد بها اهل المدينة ولهم فهيا سندا ،، یعنی ابوہریرہ ﷜ کی یہ حدیث  : قبل گھٹنے کے،ہاتھوں کارکھنا مسنون ہے۔ اس پردلالت کرتی ہے،اور اسی طرف گئے ہیں اوزاعی ، مالک بن انس اورابن حزم ایک روایت میں ، ابن ابی داؤد کہتے ہیں : اہل مدینہ اس سنت کےمنفرد ہیں ، اس کےلیے ان کےپاس دوسندیں ہیں ،، (ایک ابوہریرہ  کی اورابن عمر کی ) ۔

پانچویں بحث : کیا جو جرحین وائل بن حجر کی حدیث پر ہیں وہ مرفوع ہیں ، جس میں ہاتھوت کےپہلے گھٹنے رکھنے کاذکر ہے۔’’ قال الترمذى  : لا نعرف أحدا رواه غيرشريك،وذكرأن هماما رواه عن عاصم مرسلا  ، ولم يذكروائل بن حجر رضى الله عنه،،( سنن الترمذی (768 ) 2؍ 57 )  ، وقال النسائى  : ’’ لم يقل هذا عن شريك غير يزيد بن هارون ،، .( السنن الکبری للنسائی 2478 )

یعنی :’’ ترمذی کہتےہیں :  شریک کےسوا مجھے معلوم نہیں کہ دوسرے نےروایت کی ہو،ہاں ہمام نےالبتہ عاصم سےمرسل روایت کی ہے، اورصحابی کوچھوڑ دیا ہے،،۔امام نسائی کہتے ہیں : ’’ شریک سےیزید کے سوا دوسرےسے نہیں روایت کی ہے،،۔ اورشریک کی نسبت  کتب رجال میں ہے: ’’ ليس بالقوى فيما ينفرد به ،، قال البيهقى : ’’هذا حديث يعد أفرد شريك القاضى ، وإنما تابعه همام مرسلا ، هكذا ذكره البخارى  وغيره من الحفاظ المتقدمين ، قال فى عون المعبود : وشريك هذا هوابن عبدالله النخعى القاضى ، وفيه مقال ، وقد اخرج له مسلم فى المتابعة ،، ( عو ن المعبود 3؍48 ) ، خلاصہ یہ ہےکہ شریک اس روایت کےساتھ منفرد ہیں ان کی روایت متابعت کےساتھ قابل اعتبار ہےاوران کامرفوع روایت میں کوئی تابع نہیں ۔ پس مرفوع روایت غیرمعتبر ہے۔

اگر کوئی کہے کہ خطابی نے اس حدیث  اس وجہ سےارجح کہا تھا کہ شاہد انس ﷜ ( معالم السنن 1؍525 )کی حدیث موجود ہے۔اگر شریک کا  کوئی متابع نہیں ۔

ج : حضرت انس کی روایت میں علا ء بن اسماعیل متفرد ہیں اورمجہول ہیں (1) پس یہ شہادت کالعدم ۔حاکم فرماتےہیں ’’ هومنكر ،، باوجود اس کےحاکم کایہ فرمانا :’’هو على شرطهما ولا أعلم له علة ،، (2) بالكل تساهل ہے۔

علامہ ابن القیم نےبایں ہمہ وائل بن حجر کی حدیث کوراجح قراردیا اور اس کی دس وجہیں بیان فرمائیں (زاد المعاد 1؍229 ؍ 230 )، ہم ضروری خیال کرتے ہیں کہ انہیں نقل کرکےان کی تنقیح کردیں ۔اگرچہ امام شوکانی ﷫ نےاکثر وجہوں کا جواب دے کربعض کواہل علم کےحوالہ کیا ہے۔

’’ لأنه أثبت من حديث أبى هريرة ، قاله الخطابى وغيره ،،(4)’’ یعنی :’’ خطابی وغیرہ نےچوں کہ اثبت کہا ، اس لیے راجح ہے،، ۔

ج : خطابی کے اثبت وارجح کہنے کی وجہ علاء ابن اسماعیل کی روایت تھی جس کوشاہد قراردیا  تھا ، اس کاحال واضح ہوچکا ۔

(2)حدیث ابوہریرہ مضطرب المتن ہے۔

ج : اس کامفصل جواب ہوچکا ۔

(1)  ماتقدم من تعليل البخارى والدارقطنى وغيرهما امام دارقطنی وبخاری نے معلل بتایا ہے۔

ج : امام بخاری ودارقطنی وغیرہ کی تعلیل کاجواب مفصلا گذرا ۔

ج :   إنه على تقدير ثبوته ، قد ادعى فيه جماعة من أهل العلم النسخ   ایک جماعت نےاسے منسوخ قراردیا کیا ہے۔

ج : نہ تومجرددعوی مسموع ہوتاہے نہ وجہ ترجیح ہوسکتا ہے،اور نہ وائل بن حجر کی روایت کےمنسوخ ہونے کابھی دعویٰ کیاگیا ہے۔

(5)انه الموافق لنهى النبى صلى الله عليه وسلم من البروك كبروك الجمل فى الصلاةیعنی :،وائل بن حجر  کی حدیث بروک جمل کےنہی کےموافق ہے، جس میں حکم ہےوہ کسی طرح ’’ نهى عن بروك الجمل ،، کے مخالف نہیں کما  وضحنا مفصلا .

(5)وائل بن حجر کی حدیث عمربن خطاب ، عبداللہ بن عمر ،عبداللہ ابن مسعود وغیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی حدیث کی ترجیح کےچند وجوہ بیان فرمائی ہیں ۔

 (1)  حضرت ابوہریرہ ﷜ کی حدیث میں امروحکم وقول ہے۔ اوروائل بن حجر ﷜ کی حدیث میں حکایت فعل ہے اوروقول فعل پرراجح ہے، کیونکہ اصول مقرر ہوچکا ہےکہ آپ ﷺ کےقول کامعارض خاص نہیں ہوسکتا ۔

 (2) حضرت ابوہریرہ ﷜ کی حدیث میں نہی ہےجومحل نظر ہے۔یہ خود ایک مرجح مستقبل ہے۔ بخلاف وائل کی حدیث کے کہ اس میں حکایت محفل ہ ے۔

یہ مضمون طوئل  ہوگیا ،نیل الاوطار ، زادا لمعاد  ، صحیح البخار ی ، فتح البار ی ، دارقطنی ،عون المعبود ، تحفۃ الاحوزی اور خلاصہ کتاب الاعتبار وغیر ہ سےاخذ کیا گیا ہے،ناظرین توجہ سےپڑھیں ۔واللہ اعلم بالصواب ۔

عبدالسلام مبارکپوری  (جریدہ اہل حدیث امرتسر،7ربیع الاول 1334ھ؍ 14جنوری 1915ء ) ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 1

صفحہ نمبر 336

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ