سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(204)کیا آنحضرت ﷺ نے یا صحابہ کرام نےکبھی یا ہمیشہ ٹوپی بغیر پگڑی کےاستعمال کی ہے ؟

  • 17226
  • تاریخ اشاعت : 2016-09-20
  • مشاہدات : 748

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسلمانوں کی اکثریت نماز اورغیر نماز تمام اوقات میں محض ٹوپی بغیر عمامہ کےاستعمال کرتی ہےکیا آنحضرت ﷺ نے یاصحابہ کرام نےکبھی یاہمیشہ ٹوپی بغیر پگڑی  کےاستعمال کی ہے ؟ 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نماز میں اورنماز سےباہر ہمیشہ یاکبھی صرف ٹوپی استعمال کرنی بلاشبہ جائز اورمباح ہے۔پگڑی باندھنے نہ فرض ہے، نہ واجب نہ سنت موکدہ ۔ اورحدیث ’’ إن فرق مابينا وبين المشركين العمائم على القلانس ، ، ترمذى ( كتاب اللباس باباالعمائم على القلنسوة (1784 4/248 ) اورداؤد ( كتا ب اللباس باب فى العمائم (4078 ) 4/241 ) ضعيف ثابت هوتى ۔آنحضرت ﷺ  بغیر عمامہ کےصرف  ٹوپی بھی استعمال فرمایا کرتے تھے ۔

امام ابن القیم ’’  ذادالمعاد ،، (1؍135) میں فرماتےہیں :’’  وكان يلبسها (اى العمامة ) ويلبس تحتها  القلنسة ، وكان يلبس  القلنسوة بغير عمامة ، ويلبس العمامة بغير قلنسوة ، انتهى  اورجامع ترمذى (4/177) میں ہے’’  عَنْ أَبِي يَزِيدَ الخَوْلاَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الإِيمَانِ، لَقِيَ العَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَعْيُنَهُمْ يَوْمَ القِيَامَةِ هَكَذَا وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى وَقَعَتْ قَلَنْسُوَتُهُ، قَالَ: فَمَا أَدْرِي أَقَلَنْسُوَةَ عُمَرَ أَرَادَ أَمْ قَلَنْسُوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،، الحديث  اور ’’ جامع صغير  ،، للسيوطى ( ضعیف الجامع الصغیر وزیادتہ 2؍233 ) میں ہے:’’ كان صلى الله عليه يلبس القلانس تحت العمائم ، وبغير العمائم ويلبس العمائم بغير القلانس ، وكان يلبس القلانس اليمانية ،،الحديث (الرويانى وابن عساكر عن ابن عباس ) اور صحيح بخارى شريف ( کتاب العمل فی الصلاة  باب استعانة  الید فی الصلاة   2؍ 58  ) میں ہے:’’ وضع ابواسحق قلنسوته فى الصلوة ورفعها ،،  اس اثر سےمعلوم ہواکہ ابواسحق سبیعی جوکبارتابعین سےہیں اورامام  ابوحنیفہ  ﷫  کےاستاد  ہیں اور تیس صحابیوں  سےحدیث روایت کی ہےنماز بھی صرف ٹوپی  کےساتھ ادا فرماتےتھے ۔

 (محدث دہلی ج: 10ش :3 جمادی الآخر 1361ھ؍جولائی1942ء ) 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 1

صفحہ نمبر 318

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ