سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

حرام خور سے طلاق کا مطالبہ کرنا

  • 172
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-05
  • مشاہدات : 886

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کسی عورت کا شوہر سود کھاتا ہو یا سودی کاموں میں ملوث ہو تو کیا وہ طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

١۔ عورت کے لیے بلاوجہ طلاق لینا حرام ہے اور ایسی عورت پر جنت کی خوشبو کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

٢۔ ایک عورت اپنے شوہر سے مختلف اسباب کی بنیاد پر طلاق لے سکتی ہے مثلا شوہر اسے نان نفقہ نہ دیتا ہو یا شوہر محرمات کا مرتکب ہو یا شوہر کے اخلاق عمدہ نہ ہوں یاشوہر میں کچھ جسمانی عیوب یا بیماریاں ہوں وغیرہ ۔ آپ کی بیان کردہ صورت میں عورت کے لیے طلاق کے مطالبہ کا حق شرعی حق ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی کو صرف اس بنیاد پر علیحدگی کا اختیار دے دیا تھا کہ انہیں اپنا شوہر پسند نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں یہ اندیشہ تھا کہ وہ اس کے حقوق پورے نہ کر سکیں گی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ