سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(177)نماز قصر کے متعلق وضاحت

  • 17199
  • تاریخ اشاعت : 2016-09-19
  • مشاہدات : 313

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نماز قصر کے متعلق وضاحت


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سسرالی یا قریبی متعلقین میں پہنچنے کےبعد اگر دونوں مقاموں کےدرمیان مسافت قصر متحقق ہےاورمدت قصر(مع اختلاف الاقوال) سےزیادہ ٹھہرنے کی نیت نہیں،تووہاں جانے والا شرعاً مقیم نہیں ہے۔ بلکہ مسافر ہی ہے، اس لیے اس کووہاں قصر کرناچاہیے ۔ یا اسے قصر کرنے کی اجازت ہےاورتمام ضروری نہیں ہے۔ سسرال یاقریبی رشتہ داروں کایہ وطن جانے والے کےحق میں نہ تواصلی وطن ہےنہ وطن الاقامہ ۔( آپ کااصلی وطن مبارکپور ہےاوروطن الاقامہ علی گڑہ ) ۔

حضرت عثمان ﷜ کےمنی میں اتمام صلوۃ کی بہت سی وجہیں بین کی جاتی ہیں۔ان میں سے ایک وجہ یہ ہےکہ انہوں نے فرمایا :’’ إنى تأملت بمكة منذ قدمت ، وإنى سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : من تأمل فى بلد ، فيصل صلوة المقيم (فتح البارى 2/664) ليكن إسناد هذاالحديث ضعيف  جب  بنیاد کمزورہے، تواس سےاستنباط کردہ مسئلہ بھی کمزور ہوگا ۔

ثانیاً: سسرال میں جانے یاقریبی رشتہ داروں کےیہاں جانے پرتامل فی بلد نہیں صادق  آتا ۔ پاکستان ہجرت کرجانے کےبعد جب کہ ہند میں اسکوقانونا ً اقامت وسکونت پذیرہونے کی اجازت نہ ہو اورمیعاد مقررہ تک ہی ٹھہرسکتا ہے،توپاکستان کےجس شہرمیں وہ  رہنے لگا ہو، تووہی اس کاوطن اصلی ہوگیا اورہند میں اس کاسابق وطن ، وطن نہیں رہ گیا ۔ وہ وطن اصلی وہ وطن الاقامت ۔ اب ماں باپ وغیرہ سےملنے کےلیے  چند دن (مدت قصر) کےواسطے سابق وطن میں آئے تواس کوقصر ہی کرنا چاہیے  یا اسے قصر کرنے کی اجازت ہے۔ اتمام صلوۃ ضروری نہیں ۔کیوں کہ وہ اب مسافر  ہی ہے۔واللہ اعلم ۔  (مکاتیب شیخ رحمانی بنام مولانا محمدامین اثری ص: 65؍66) 

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 1

صفحہ نمبر 268

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ