سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(374)جنات کی عمریں

  • 16974
  • تاریخ اشاعت : 2016-07-13
  • مشاہدات : 576

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بات یہ ہے کہ طلبہ مجھ سے پریشان کن سوالات کرتے ہیں اور انہیں اطمینان بخش جواب نہیں دے سکتا۔ مثلاً ایک سوال یہ ہے کہ کیا جب بھی انسانوں کی طرح مرتے اور دفن ہوتے ہیں؟ اور رسول اللہﷺ نے جو فرمایا ہے کہ :

(أَعْمَارُ أُمَّتِی بَیْنَ السِّتِّینَ وَالسَّبْعِینَ)

’’میری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہوں گی‘‘1

(1جامع ترمذي حدیث نمبر: ۲۳۳۱ اور ۳۵۵۰۔ سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: ۴۲۳۶) یہ الفاظ ابن ماجہ کی روایت کے مطابق ہیں۔

کیا یہ حدیث جنوں پر بھی صادق آتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسانو ں کی طرح جن بھی مرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان عام ہے:

﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ... ١٨٥﴾...آل عمران

’’ ہرجان نے موت کو چکھنے والی ہے۔‘‘

باقی رہا ان کی عمروں کا معاملہ تو بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں وہ بھی شامل ہیں کیوکہ وہ بھی امت کا ایک حصہ ہیں اور رسول اللہﷺ ان کی طرف مبعوث ہوئے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ظاہر ہے:

﴿وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا ۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ ﴿٢٩﴾ قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٣٠﴾ يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّـهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٣١﴾ وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّـهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءُ ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٣٢﴾...الأحقاف

’’اور جب ہم نے جنوں کی ایک جماعت قرآن سننے کے لئے آپ کی طرف پھیر دی۔ جب وہ حاضر ہوئے تو بولے ’’خاموش ہوجاؤ۔‘‘ جب تلاوت ہوچکی تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر واپس ہوئے۔ انہوںنے کہا ہم نے ایسا کتاب سنی ہے جو موسیu کے بعد نازل ہوئی ہے جو اپنے سے پہلی (والی وحی) کی تصدیق کرتی ہے وہ حق کی طرف رہنمائی کرتی اور سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔ اسے ہماری قوم! اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ، تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے محفوظ فرمائے گا اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے گا وہ زمین میں (اللہ) کو عاجز نہیں کرسکتا اور اسے اللہ کے سوا کوئی مدد گارنہیں ملے گا‘ ایسے لوگ واضح گمراہی میں ہیں‘‘ ا

نیز ارشاد ہے:

﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ﴿١﴾ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا﴿٢﴾...الجن

’’(اے پیغمبر!) کہہ دیجئے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا تو بولے: ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ وہ ہدایت کی راہ دکھاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں کریں گے۔‘‘ سورت کے آخر تک انہیں کا تذکرہ ہے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ