سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(665) کیا مدت تعلیم کے دوران قصر اور جمع کیا جا سکتا ہے

  • 16929
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-23
  • مشاہدات : 375

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں بر طا نیہ میں تعلیم حا صل کر نے آیا ہو ں تو کیا مدت تعلیم کے دورا ن نمازو ں کو قصر اور جمع کرکے ادا کر سکتا ہو ں ؟ اور کیا اس حا لت میں رمضا ن میں بھی قصر اور جمع کر سکتا ہو ں یا نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
مسا فر کے لئے نماز کو اس صورت میں جمع کر نا جا ئز ہے جب وہ را ستے پر چل رہا ہو اور ہر نماز کے لئے سوا ری سے اترنا اور پڑاؤ ڈا لنا مشکل ہو تو اس کے لئے یہ جائز ہے کہ دو نماز وں میں سے کسی ایک کے وقت میں دو نوں کو پڑ ھ لے لیکن اگر مسا فر با قا عدہ  اقامت پذیر ہو تو وہ جمع نہیں کر ے گا ۔ بلکہ اسے ہر نماز وقت پر ادا کر نا پڑے گی خو اہ وہ پو ری نماز پڑھے یا قصر بشر طیکہ قصر اسکے لئے جا ئز ہو اور قصر مسا فر کے لئے جا ئز ہے جس نے رخت سفر با ند ھ رکھا ہو خوا ہ جنگل میں کسی ضرورت کے پیش نظر پڑا ؤ ہی کیوں نہ ڈا ل دیا ہو یا شہر کے ایک کنا رہ پر قبہ یا خیمہ لگا کر انتظا ر میں ہو کہ جو ں ہی اس کا کام پو را ہو جا ئے گا وہ یہاں سے چل پڑ ے گا لیکن اگر وہ اند رون شہر مقیم ہو گیا ہو اور طویل مدت تک اقا مت کا ارادہ کر لیا ہو اور اگر چہ وہ یہا ں کا مستقل با شندہ تو نہیں لیکن اس نے سکو نت کے لئے یہا ں ایک کمرہ یا ایک کشا دہ مکا ن حاصل کر لیا ہو اور اس کے پا س حسب ضرو رت ہر طرح کا سا مان زیست بھی ہو تو اس حا ل میں اس کے اور شہر کے مستقل با شندوں کے درمیا ن کو ئی فرق نہیں اور نماز پو ری پڑ ھنے اور روزہ رکھنے میں اسے کسی مشقت کا بھی سا منا نہیں ۔ (شیخ ابن جبر ین رحمۃ اللہ علیہ )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ :جلد1

صفحہ نمبر 525

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ