سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(658) سفر میں چار قسم کی رخصت

  • 16922
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-22
  • مشاہدات : 381

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سفر میں کیا کیا رخصت ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سفر میں چا ر قسم کی رخصت ہے :

 (1) چا ر رکعتو ں و الی نماز کی صرف دورکعات ہیں

 (2) رمضا ن کا روزہ نہ رکھا جا ئے اور پھر ایا م سفر کی گنتی کے مطا بق روزے بعد میں رکھ لئے جا ئیں ۔

(3) مو زو ں پر مسح شروع کر نے کے وقت سے لے کر تین دن اور تین راتوں تک مسح کر لیا جا ئے ۔

(4)ظہر مغرب اور عشا ء کی سنن مؤکد ہ سا قط ہو جا تی ہیں البتہ صبح کی سنتوں اور دگر نفلو ں کا پڑھنا مستحب ہے ۔  یعنی مسا فر رات کی نماز سنت فجر ضحیٰ کی دو رکعا ت سنت وضو مسجدمیں دا خل ہو نے کے وقت کی دو رکعا ت اور سفر سے وا پسی کے مو قعہ کی دو رکعا ت پڑ ھ سکتا ہے سنت یہ ہے کہ آدمی جب سفر سے وا پس آئے تو گھر میں آنے سے پہلے مسجد میں آئے اور اللہ کے گھر میں دو رکعا ت پڑ ھے نماز کے سا تھ مسا فر دیگر نو ا فل تو ادا سکتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا اس نے ظہر مغرب اور عشاء کی سنن مؤ کدہ کو ادا نہیں کر نا کیو نکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ان تینو ں نمازو ں کی سنن مؤ کدہ کو ادا نہیں فر ما یا کر تے تھے ۔(شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ :جلد1

صفحہ نمبر 522

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ