سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(650) کیا دو سال کی مدت تک قیام کرنے والا مسافر قصر کرے ؟

  • 16914
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-22
  • مشاہدات : 397

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے اور ایک عرب دوست کے درمیان نمازقصر کر نے کے بارے میں جھگڑا ہو ا صورت حا ل یہ ہے کہ ہم آج کل امریکہ میں قیا م پذیر ہیں اور ممکن ہے کہ دو سا ل تک یہ قیا م رہے  میں تو نما ز پو ری پرھتا ہوں گو یا اب اپنے ہی ملک میں ہو ں جب کہ میرا دوست نماز قصر پڑ ھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مسا فر ہو ں خو اہ سفر کی مدت دوسال تک طویل کیو ں نہ ہو امید ہے آپ ہما رے اس قصر نماز کے مسئلہ میں دلیل کے ساتھ رہنما ئی فر ما ئیں گے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اصل یہ ہے کہ مسا فر وہ ہے جسے رباعی نماز قصر کر نے کی رخصت ہے جیسا کہ ارشاد باری تعا لیٰ ہے :

﴿وَإِذا ضَرَبتُم فِى الأَرضِ فَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ أَن تَقصُروا مِنَ الصَّلو‌ٰةِ...﴿١٠١﴾... سورة النساء

"اور جب تم سفر کو جا ؤ تو تم پر کچھ گنا ہ نہیں کہ نما ز کو کم کر کےپڑھو ۔"اوریعلی بن امیہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطا ب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ ارشا د با ر ی تعالیٰ تو یہ ہے کہ :

﴿فَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ أَن تَقصُروا مِنَ الصَّلو‌ٰةِ إِن خِفتُم أَن يَفتِنَكُمُ الَّذينَ كَفَروا...﴿١٠١﴾... سورة النساء

"تم پر کچھ گنا ہ نہیں کہ نماز کو کم کر کےپڑھو بشرطیکہ تم کو خو ف ہو کہ کافر لو گ تم کو ایذا ء دیں گے ۔"

 تو انہو ں نے فر ما یا کہ مجھے بھی اس سے تعجب ہو ا جس سے آپ کو تعجب ہو ا ہے تو میں نے اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ نے فر ما یا :

«هي صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقة»(صحیح مسلم )
"یہ اللہ تعالیٰ نے تم پر صدقہ فر ما یا ہے لہذا اللہ تعالیٰ کے اس صدقہ کوقبول کر لو ۔ اور بلا فعل اسے مسا فر کے حکم میں شما ر کیا جا ئے گا جو چا ر دن راتیں یا اس سے کم مدت کے لئے قیا م کر ے جیساکہ حدیث جا بر و ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ثا بت ہے  کہ حجۃ الوداع کے مو قعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  چا ر ذو الحجہ کی صبح کو مکہ مکرمہ مین تشریف لا ئے اور آپ نے ذوالحجہ کی چا ر پا نچ چھ اور سا ت تا ریخ کو مکہ ہی میں قیا م فر ما یا اور پھر آٹھ تا ر یخ کو صبح کی نماز ابطح میں ادا فر ما ئی ان تمام دنو ں میں آپ  نے نماز قصر پڑھی اور یہا ں آپ کی اقا مت کی نیت تھی جیسا کہ معلوم ہے لہذا ہر وہ شخص جو مسا فر ہو اور اس کی اتنی مدت اقامت کی نیت ہو جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی یا اس سے کم مد ت کی نیت ہو تو وہ نماز قصر پڑھ سکتا ہے اور اگرنیت اس سے زیادہ اقامت کی ہو تو وہ پو ری نماز پڑ ھے گا کیو نکہ وہ مسا فر کے حکم میں نہ ہو گا ۔ جو شخص اپنے سفر میں چا ر دن سے زیا دہ اقامت تو اختیار کر لے لیکن اس کی اقامت کی نیت نہ ہو بلکہ اردہ یہ ہو کہ جو ں ہی اس کی ضرورت پو ری ہو گئی وہ وا پس لو ٹ جائے گا مثلاً کو ئی شکص دشمن سے جہا د کے لئے کسی جگہ مقیم ہویا کسی کو بادشا ہ نے رو ک لیا ہو یا کو ئی کسی مر ض کی وجہ سے رکنے پر مجبو ر ہو گیا ہو اور نیت یہ ہو کہ جو نہی جہا د کا مر حلہ فتح و نصرت یا صلح کی شکل میں مکمل ہو گیا یا جو ں ہی اس نے مر ض یا دشمن یا با د شا ہ یا اپنے سا مان تجار ت کی فرو خت سے فرا غت پا لی تو وہ واپس لو ٹ جا ئے گا تو اس صورت میں اسے مسا فرسمجھا جا ئے گا اور اسے ربا عی نماز کے قصر کی اجازت ہو گی خو اہ یہ مدت کتنی ہی طو یل کیو ں نہ ہو جا ئے کیو نکہ حدیث سے یہ ثا بت ہے کہ فتح مکہ کے سا ل نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے مکہ مکر مہ میں انیس دن قیا م فر ما یا اور ابن دنو ں میں آپ نماز قصر ادا فر ما تے رہے اسی طرح عیسا ئیوں سے جہا د کے لئے آپ نے تبو ک میں بیس دن قیا م فر ما یا اور ان دنو ں میں بھی آپ نے حضرات صحا بہ کرا م رضوان اللہ عنہم اجمعین کے سا تھ نماز قصر ادا فر ما ئی کیونکہ آپ کی اقامت کی با قا عدہ نیت یہ تھی کہ جوں ہی ضرورت پو ری ہو گئی آپ سفر شروع فر ما دیں گے !(فتو ی کمیٹی )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ :جلد1

صفحہ نمبر 518

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ