سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

لغویات سے توبہ کرنا

  • 169
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-05
  • مشاہدات : 1091

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی دھوکہ بازی،جھوٹ ،فراڈ،طنز اور غیبت وغیرہ کرتا ہو اور وہ سچے دل سے توبہ کر لے تو کیا اس کے یہ سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جی ہاں اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو سچی توبہ کے بعد معاف کر دیتے ہیں اور انسان کو توبہ کے بعد اللہ کی طرف سے معافی کی امید ہونی چاہیے ۔ لیکن اگر کسی کا حق مارا ہے یا اس پر ظلم کیا ہے یعنی گناہ حقوق العباد سے متعلق ہے اور اس کا حق واپس کر سکتاہے تو اس کا حق واپس کرے ۔اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو۔ آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے ۔ اور توبہ میں دیر نہ لگائے یعنی فورا توبہ کرے ۔ارشاد باری تعالی ہے:

﴿إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوَءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ فَأُوْلَـئِكَ يَتُوبُ اللّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللّهُ عَلِيماً حَكِيماً ﴾النساء17

ان لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے جو جہالت (یعنی لاعلمی یا جذباتیت) میں کسی برائی کا ارتکاب کر جاتے ہیں اور پھر فورا ہی توبہ کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ علم والے حکمت والے ہیں۔

﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ وَلاَ الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ أُوْلَـئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاباً أَلِيماً ﴾النساء18

اور ان لوگوں کی کوئی توبہ نہیں ہے جو برے اعمال کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی ایک کو موت آلیتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں اب توبہ کرتا ہوں اور نہ ہی ان لوگوں کی توبہ ہے جو کافر ہو کر مرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

 ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ