سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(605) کام میں مشغولیت تاخیر نماز کے لئے عذر نہیں ہے
  • 16869
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 879

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک مہاجر ہوں مجھے شام کے سات بجے سے صبح کے سات بجے تک کام کرنا پڑتا ہے لہذا کیا میرے لئے یہ جائز ہے کہ میں تمام فرض نمازوں کو جمع کرکے اد ا کرلیا کروں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
مقررہ وقت سے پہلے کسی نماز کو ادا کرنا جائز نہیں خواہ کام کی مشغولیت یا کوئی اور عذر ہو اسی طرح کسی نماز کو بغیر عذر کے اس قدر مؤخر کرنا بھی جائز نہیں کہ اس وقت ہی ختم ہوجائے معمول کا کام نماز کو موخر کرنے کےلئے عذر یا جمع کرنے کے لئے جواز نہیں بن سکتا کام کی جگہ پر بھی نماز کو ادا کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کام کی جگہ کو بند کر کے مسجد میں جا کر نماز ادا کرلی جائے۔علماء نے کام کرنے والو ں کے لئے یہ شرط مقرر کی ہے کہ انہیں کارکنوں کو نماز پنجگانہ ان کے اوقات میں شرائط کے مطابق ادا کرنے کی سہولت دینا ہوگی یاد رہے بعض نمازوں کو سفر یا بارش یابیماری وغیرہ کے عذرکی وجہ سے جمع کرکے پڑھنے کی اجازت ہے۔(شیخ ابن جبرین رحمۃ اللہ علیہ )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ :جلد1

صفحہ نمبر 492

محدث فتویٰ

تبصرے