سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(333)مشرکین میں اقامت نہ رکھیں

  • 16805
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-20
  • مشاہدات : 164

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ہر سال دوسے ملکوں (یونان۔ آسٹریلیا) میں بیوی اور بچی سمیت سیروتفریح کے لئے جاتا ہوں۔ وہاں ہم دو ہفتے سمندرمیں یونان کے خوبصورت جزیروں اور باغوں میں شریفانہ تفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس دوران ہم دونوں نمازیں بھی پابندی سے ادا کرتے ہیں۔ میری بیوی پردہ کاپورا خیال رکھتی ہے ہم (مشکوک کھانوں سے بچنے کے لئے) صرف پھل کھاتے ہیں۔ ہم لوگ نہ توغیر مسلموں سے خلط ملط ہوتے ہیں؟ نہ انہیں عریاں لباس میں دیکھتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مشرکین کے ملک میں کسی شرعی جواز کے بغیر سفر کرکے جانا جائز نہیں اور تفریح کوئی شرعی جواز نہیں۔ نبیﷺنے فرمایا:

(أَنَا بَرِىء مَنْ کُلِّ مُسْلِمِ یُقِیْمُ بَیْنَ أَظْھُرِ الْمُشْرِکِینَ)

’’میں ہر مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں میں اقامت رکھتاہے۔‘‘1

1( سنن ابی داؤد حدیث نمبر: ۲۶۴۵۔ جامع ترمذی حدیث نمبر: ۱۶۰۵۔ مجتبیٰ نسائی ۸؍۳۶)

اس لئے ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ تفریحی مقاصدکے لئے ان ملکوں میں نہ جائیں کیونکہ اس سے فتنوں میں مبتلا ہونے کااندیشہ ہے اور مشرکیں میں اقامت اختیار کرنے جیسا ممنوع کام ہے۔ جب کہ نبیﷺکی حدیث صحیح سند سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

(أَنَا بَرِیء مَنْ کُلِّ مُسْلِمِ یُقِیْمُ بَیْنَ أَظْھُرِ الْمُشْرِکِینَ)

’’میں ہر مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں میں اقامت رکھتاہے۔‘‘اس مفہوم کی اور حدیثیں بھی ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ