سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(278)غیر اللہ کے لیے ذبجہ کرنا نیز طاغوت سے مدد طلب کرنا

  • 16701
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-19
  • مشاہدات : 481

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک مسلمان غیراللہ کے لئے ذبح کرواتا ہے یا غیر اللہ کو پکارتا ہے یا طاغوت سے تعاون کرتا ہے تو ان مسائل سے واقف ایک عام مسلمان کے سمجھانے سے ایسے لوگوں پر حجت قائم ہوجاتی ہے یا حجت قائم ہونے کی کچھ اور شرطیں بھی ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دین کو گالی دینا، قرآن وحدیث کی کسی چیز سے ٹھٹھا کرنا، قرآن وسنت پر عمل کرنے والے کو نشانہ تضحیک بنانا۔ مثلاً مرد کو داڑھی رکھنے اور عورت کو پردہ کرنے کی وجہ سے مذاق کرنا، کفر ہے۔ لیکن ایسی حرکتن کرنے والے کو پہلے سمجھانا چاہئے کہ یہ کفر ہے، اگر معلوم ہوجانے کے بعد بھی اس رویے پر اصرار کرے تو وہ کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ أَبِاللَّـهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ﴿٦٥﴾لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ... ٦٦﴾...التوبة

’’کیا تم اللہ سے اس کی آیات سے اور اس کے رسول سے ٹھٹھا کرتے تھے؟ (اب) معذرت نہ کرو، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔‘‘

قبر پرستی اور طاغوت کی پوجا شرک اکبر ہے۔ اگر کسی عاقل بالغ شخص سے اس کا ارتکاب ہو، اسے شرعی حکم سے آگاہ کرنا چاہئے۔ اگر وہ شریعت کا حکم قبول کرلے تو بہتر ہے ورنہ وہ مشرک ہوجاتاہے؟ اگر اس کا خاتمہ اس شرک کی حالت میں ہوگیا تو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور شرعی حکم معلوم ہونے کے بعد وہ معذور نہیں سمجھان جائے گا۔ جو شخص غیراللہ کے لئے جانور ذبح کرتا ہے اس کا بھی یہی حکم ہے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ