سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(192)ایک عورت اپنی بیٹی کے خاوند (اپنے داماد) سے پردہ کرتی ہے، نہ اس کے ساتھ کھاتی ہے، نہ اسے سلام کہتی ہے۔ اس بارے میں کیا حکم ہے؟

  • 16550
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 973

سوال

(192)ایک عورت اپنی بیٹی کے خاوند (اپنے داماد) سے پردہ کرتی ہے، نہ اس کے ساتھ کھاتی ہے، نہ اسے سلام کہتی ہے۔ اس بارے میں کیا حکم ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہاں ایک عورت ہے۔ جس کے پاس اس کی شادی شدہ بیٹی ہے اور یہ عورت اپنے داماد سے پردہ کرتی ہے اور اس کے ساتھ کھانا نہیں کھاتی۔ حتیٰ کہ تقریبات میں بھی اسے سلام نہیں کہتی۔ اس بارے میں کیا حکم ہے؟ (سعید۔۱)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بیٹی کا خاوند بیٹی کی ماں کے لیے محرم ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ محرمات کے بیان میں فرماتے ہیں:

﴿ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ... ٢٣﴾...النساء

’’اور تمہاری بیویوں کی مائیں (بھی تم پر حرام ہیں)۔‘‘

اور اس بات پر اہل علم کا اجماع ہے۔ گویا بیوی کی ماں اور دادیاں خواہ وہ باپ کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف سے، مذکورہ بالا آیت کی رو سے، سب کی سب عورت کے خاوند کے لیے حرام ہیں۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس سے پردہ نہ کریں یا اس کے ساتھ کھانا کھائیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو بہتر اور افضل ہے۔ مبادا ان دونوں میں الفت اور محبت زیادہ ہو اور اللہ کے اس حکم کی اطاعت ہو جائے جو اس عورت کے لیے مباح تھا۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

تبصرے