سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(166)یتیم کے مال کے احکام

  • 16521
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-15
  • مشاہدات : 556

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک یتیم کے گھر والے فوت ہوگئے تو ہم نے اس کی حفاظت وپرورش کا ذمہ لیا۔ اس کے دو چچا تھے اور جو شخص ان سے بھلائی کرنا چاہتا، اسے کچھ پیسے دے دیتے اور وہ ہماری آمدنی ہوتی تھی۔ یہ خیال رہے کہ جو کچھ ہمیں آمدنی ہوتی اور وہ اس (پر خرچ) سے زیادتی ہوتی تھی اور ہم اسے اپنے گھر کا ایک فرد شمار کرتے تھے۔ اس مسئلہ میں ہمیں مستفید فرمائیے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ (محمدی۔ ع۔ع۔ جدہ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس یتیم کو جو صدقات دیئے جاتے ہیں، آپ وہ لے لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ جبکہ یہ صدقات اس خرچ کے برابر یا کم ہوں جو آپ نے اس یتیم پر کیا ہو اور اگر وہ صدقات اس کے خرچ سے زیادہ ہوں تو آپ پر لازم ہے کہ وہ زائد رقم اس یقیم کے لیے محفوظ رکھیں۔ آپ کو اس کی پرورش اور اس پر احسان کی بنا پر بہت بڑے اجر کی خوشخبری ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ