سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(164)کسی کو اس شرط پر قرض دینے کا کیا حکم ہے کہ وہ مستقبل میں اتنا ہی قرض مجھے بھی دے گا؟

  • 16519
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-15
  • مشاہدات : 291

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی شخص کو اس شرط پر قرض دینے کا کیا حكم ہے کہ وہ ایک معینہ مدت کے بعد رقم واپس کرے پھر وہ آپ کو اتنی ہی رقم مدت کے لیے قرض دے۔ کیا یہ معاملہ اس حدیث کے تحت آتا ہے: (ہر وہ قرض جو نفع کھینچ لائے، وہ سود ہے)… یہ خیال رہے کہ میں نے اس سے کسی زیادتی کا مطالبہ نہیں کیا؟ (عبدالرحمن۔ ن۔ الریاض)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ قرض اس لیے جائز نہیں کہ اس میں نفع کی شرط ہے اور وہ نفع بعد والا قرض ہے اور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر وہ قرض جس میں کسی منفعت کی شرط ہو، وہ سود ہوتا ہے۔ نبی کریمﷺ کے صحابہ میں سے ایک جماعت نے جو فتویٰ دیا وہ اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔ رہی وہ حدیث جس کا ذکر کیا گیا ہے کہ ’’ہر وہ قرض جو نفع کھینچ لائے وہ سود ہے‘‘ تو یہ حدیث ضعیف ہے۔ ایسے قرض کے ممنوع ہونے کا انحصار صحابہ کرام رضي الله عنهم کے فتویٰ اور اہل علم کے اجماع پر ہے

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ