سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(156)بنکوں کے حصے خریدنے کا حکم

  • 16501
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-15
  • مشاہدات : 322

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بنکوں کے حصے خریدنے اور کچھ مدت بعد انہیں بیچ دینے کا کیا حکم ہے جبکہ مثال کے طور پر ایک ہزار کے حصے تین ہزار کے ہو جائیں اور کیا اسے سود ہی سمجھا جائے گا؟ (ناصر۔ع۔ ا۔ الخرج)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بنکوں کے حصوں کی خرید و فروخت جائز نہیں کیونکہ یہ نقدی سے بیع ہے۔ جس میں نہ برابر برابر ہونے کی شرط پائی جاتی ہے اور نہ قبضہ میں لینے کی اور اس لیے بھی کہ سودی اداروں کے ساتھ تعاون جائز نہیں۔ نہ ہی ان کی خرید و فروخت جائز ہے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ... ٢﴾...المائدة

’’اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں نہ کیا کرو۔‘‘

اور جیسا ہ نبیﷺ سے ثابت ہے کہ ’’آپ نے سود لینے والے، دینے والے، اس کی تحریر لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب لوگ گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔‘‘

اور آپ صرف اپنا راس المال ہی لے سکتے ہیں۔

آپ کو اور دوسرے سب مسلمانوں کو میری یہی نصیحت ہے کہ وہ ہر طرح کے سودی معاملات سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور گزشتہ معاملات پر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کریں کیونکہ سودی معاملات دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ اور اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے عذاب کے اسباب میں ے ایک سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٧٥﴾ يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ۗ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ ﴿٢٧٦﴾...البقرة

’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ خرید و فروخت بھی تو سود ہی کی طرح ہے حالانکہ بیع کو اللہ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کو اپنے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچی وہ باز آگیا تو پہلے جو ہو چکا وہ اس کا اور (قیامت کو) اس کا معاملہ اللہ کے سپرد اور جو پھر سود لینے لگا تو ایسے لوگ جہنمی ہیں ہمیشہ اس میں جلتے رہیں گے۔ اللہ سود کو نابود کرتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘

نیز اللہ عزوجل نے فرمایا:

 ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿٢٧٨﴾ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ﴿٢٧٩﴾...البقرة

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اور اگر ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ اور اگر توبہ کر لو (سود چھوڑ دو) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے۔ جس میں نہ دوسروں کا نقصان نہ تمہارا نقصان۔‘‘

اور جیسا کہ پہلے حدیث شریف گزر چکی ہے۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ