سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(374) مقیم کی مسافر کے پیچھے نماز

  • 16374
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-14
  • مشاہدات : 382

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جب انسان مسافر ہو اور وہ نماز ظہر باجماعت ادا کرنا چاہے ایک مقیم شخص کو پائے جس نے نماز ظہر ادا کرلی ہو۔تو کیا اس صورت میں وہ مقیم مسافر کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے؟اور کیا ا س کے ساتھ نماز قصر پڑھے گا یا پوری نماز؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کمیٹی نے استفتاء پڑھنے کے بعد درج زیل جواب دیا:

جب مقیم مسافر کے پیچھے فضیلت وجماعت کے حصول کےلئے نماز پڑھے اور مقیم اپنی فرض نماز پہلے ادا کرچکا ہو تواس صورت میں اسے مسافر کے ساتھ دو رکعات ہی پڑھنا ہوں گی۔کیونکہ یہ نماز مقیم کے حق میں نفل ہوگی لیکن اگر مقیم مسافر کی اقتداء میں ظہر وعصر اور عشاء کے فرض ادا کرے۔تو اس صورت میں اسے چار رکعت پڑھنی ہوگی۔لہذا امام دو رکعت کے بعد جب سلام پھیر دے تو مقیم مقتدی کو دو رکعت مذید ادا کرکے اپنی نماز کی تکمیل کرنا ہوگی اگر مسافرمقیم کی اقتداء میں نماز ادا کررہا ہو۔توعلماء کے صحیح قول کے مطابق مسافر کو ظہر وعصر وعشاء کی نمازوں کی چار چار رکعتیں ہی پڑھنا ہوں گی۔کیونکہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے ''مسند میں'' اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ''صحیح'' میں روایت کیا ہے کہ:

«ان ابن عباس سئل عن المسافر يصلي خلف الامام اربعا ويصلي مع اصحابه ركعتين فقال:هكذا السنة »(مسند احمد)

''حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیابات ہے کہ مسافر مقیم امام کی ابتداء میں چار رکعت لیکن اپنے ساتھیوں کے ساتھ دورکعات ادا کرتا ہے؟تو انہوں نے فرمایا سنت اسی طرح ہے!''

او ر پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے عموم کا تقاضا بھی یہی ہے کہ:

«انما جعل الامام ليوتم به فلا  تختلفوا عليه» (صحيح بخاري)
’’امام اس لئے بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے۔لہذا اس سے اختلاف ن کرو۔''(اس حدیث کی صحت پر آئمہ کااتفاق ہے)(شیخ ابن بازؒ)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ :جلد1

صفحہ نمبر 348

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ