سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(177) مؤذن کا تثویب کہنا

  • 1633
  • تاریخ اشاعت : 2012-07-25
  • مشاہدات : 751

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بدعت گمراہی ہے جس سے باز رہنا چاہیے جو لوگ ایسی بدعتوں میں مبتلا ہوں ان کی صحبت سے دور رہنا چاہیے جب تک کہ وہ ان بدعات سے باز نہ آجائیں۔ ترمذی نے مجاہد سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک مسجد میں آئے جہاں اذان ہو چکی تھی مؤذن نے تثویب کہی ( تثویب کا یہاں یہ مطلب ہے کہ جو اس زمانہ میں اہل بدعت نے نکالا ہے کہ جب لوگ اذان کے بعد آنے میں دیر کرتے ہیں تو دوبارہ پکارتے ہیں الصلوۃ الصلوۃ یا اقامت کے وقت پکارتے ہیں) یہ نیا طریقہ رائج کر لیا گیا ہے۔ بعض جگہوں اور مسجدوں میں دیکھا گیا ہے کہ اذان کے بعد مؤذن پھر پکارتا ہے اے اللہ کے بندو مسجد میں آئو آ کر نماز پڑھو، وقت کم ہے ، بھلائی کے راستہ کی طرف آئو حالانکہ اذان کے لفظ یہی ہیں یا اذان سے پہلے درود شریف پڑھتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
تو عبداللہ﷜نے کہا کہ اس بدعتی کے پاس سے ہم کو نکال لے چل اوروہاں آپ نے نماز نہ پڑھی۔( جامع ترمذی ابواب الصلوۃ باب ما جاء فی التثویب فی الفجر ج ۱ ص۴۹۔۵۰)اس حدیث سے یہ مطلب نکلا کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور کسی بدعت میں نور نہیں ۔ یعنی وہ مؤذن بدعتی تھا اور نماز نہ پڑھی۔ یہ تو مؤذن کی بات ہے اگر امام بدعتی ہو تو خود ہی اندازہ لگائیں ۔ تثویب کا حکم صرف نماز فجر کی اذان میں ہے یعنی ’’اَلصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ‘‘۔
اب سوال یہ ہے کہ (۱) کیا بدعتی امام کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے یا اجتناب کرنا بہتر ہے ؟ (۲) مندرجہ بالا حدیث کی تفصیل درکار ہے کہ مؤذن نے کس نماز میں کون سی بدعت کی تھی جس کا یہ حوالہ ہے ؟ (۳) ذیل کی حدیث میں فسق وفجور کی کیا تفصیل ہے ؟
ایک حدیث میں ہے کہ ہر مسلمان کے پیچھے نماز واجب ہے وہ فاسق ہو یا فاجر اور ہر امیر کی اطاعت واجب ہے وہ فاسق ہو یا فاجر ۔ یعنی فسق وفجور والے کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے تو بغیر داڑھی والے کے پیچھے بھی ہو جاتی ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بدعت گمراہی ہے جس سے باز رہنا چاہیے جو لوگ ایسی بدعتوں میں مبتلا ہوں ان کی صحبت سے دور رہنا چاہیے جب تک کہ وہ ان بدعات سے باز نہ آجائیں۔ ترمذی نے مجاہد سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک مسجد میں آئے جہاں اذان ہو چکی تھی مؤذن نے تثویب کہی ( تثویب کا یہاں یہ مطلب ہے کہ جو اس زمانہ میں اہل بدعت نے نکالا ہے کہ جب لوگ اذان کے بعد آنے میں دیر کرتے ہیں تو دوبارہ پکارتے ہیں الصلوۃ الصلوۃ یا اقامت کے وقت پکارتے ہیں) یہ نیا طریقہ رائج کر لیا گیا ہے۔ بعض جگہوں اور مسجدوں میں دیکھا گیا ہے کہ اذان کے بعد مؤذن پھر پکارتا ہے اے اللہ کے بندو مسجد میں آئو آ کر نماز پڑھو، وقت کم ہے ، بھلائی کے راستہ کی طرف آئو حالانکہ اذان کے لفظ یہی ہیں یا اذان سے پہلے درود شریف پڑھتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

تو عبداللہ﷜نے کہا کہ اس بدعتی کے پاس سے ہم کو نکال لے چل اوروہاں آپ نے نماز نہ پڑھی۔( جامع ترمذی ابواب الصلوۃ باب ما جاء فی التثویب فی الفجر ج ۱ ص۴۹۔۵۰)اس حدیث سے یہ مطلب نکلا کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور کسی بدعت میں نور نہیں ۔ یعنی وہ مؤذن بدعتی تھا اور نماز نہ پڑھی۔ یہ تو مؤذن کی بات ہے اگر امام بدعتی ہو تو خود ہی اندازہ لگائیں ۔ تثویب کا حکم صرف نماز فجر کی اذان میں ہے یعنی ’’اَلصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ‘‘۔

اب سوال یہ ہے کہ (۱) کیا بدعتی امام کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے یا اجتناب کرنا بہتر ہے ؟ (۲) مندرجہ بالا حدیث کی تفصیل درکار ہے کہ مؤذن نے کس نماز میں کون سی بدعت کی تھی جس کا یہ حوالہ ہے ؟ (۳) ذیل کی حدیث میں فسق وفجور کی کیا تفصیل ہے ؟

ایک حدیث میں ہے کہ ہر مسلمان کے پیچھے نماز واجب ہے وہ فاسق ہو یا فاجر اور ہر امیر کی اطاعت واجب ہے وہ فاسق ہو یا فاجر ۔ یعنی فسق وفجور والے کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے تو بغیر داڑھی والے کے پیچھے بھی ہو جاتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اما بعد ! آپ کا مکتوب موصول ہوا ۔ جس کے آغاز میں نہ تو بسم اللہ لکھی گئی اور نہ ہی مکتوب الیہ کو سلام لکھا گیا جناب نے تین سوال کیے جن کے جواب بتوفیق اللہ تبارک وتعالیٰ وعونہ ترتیب وار مندرجہ ذیل ہیں۔

(۱) بدعتی کی بدعت  اگر کفر یا شرک کے زمرہ میں آتی ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے اجتناب ضروری ہے اور اگرشرک یا کفر کے زمرہ میں نہیں آتی تو ایسے آدمی کو مستقل امام نہیں بنایا جا سکتا اتفاقاً کبھی اس کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے ۔

(۲) نماز کون سی تھی اس کا مجھے علم نہیں باقی بدعت کون سی تھی اس کا ذکر آپ کی نقل کردہ عبارت میں موجود ہے ۔

(۳) صَلُّوْا خَلْفَ کُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ والی روایت  صحیح نہیں داڑھی مونڈھے کو مستقل امام نہیں بنا سکتے کبھی کبھار عارضی طور پر اس کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ داڑھی رکھنا بڑھانا فرض ہے کیونکہ رسول اللہﷺ کا امروحکم ہے اور اس امر وحکم کو اس کی حقیقت (فرض ووجوب) سے پھیرنے والا کوئی قرینہ موجود نہیں۔

 

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

نماز کا بیان ج1ص 157

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ