سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(174) کیا عورت عورتوں کی امامت کروا سکتی ہے؟

  • 1630
  • تاریخ اشاعت : 2012-07-25
  • مشاہدات : 991

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عورت عورتوں کی امامت کروا سکتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

امامت عورت کے لیے ایک حدیث پیش کی جاتی ہے :

«عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اﷲِ ابْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِی ، وَکَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ ، وَکَانَ النَّبِیُّﷺ قَدْ أَمَرَہَا أَنْ تَؤُمَّ أَہْلَ دَارِہَا ، وَکَانَ لَہَا مُؤَذِّنٌ ، وَکَانَتْ تَؤُمُّ أَہْلَ دَارِہَا»

’’حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا بنت عبداللہ بن حارث انصاری سے روایت ہے اور اس نے قرآن جمع کیا ہوا تھا اور نبی  ﷺ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ گھر والوں کی امامت کرائے اور ان کا مؤذن تھا اور وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرواتی تھی‘‘ واللفظ لأحمد (1) اس کو بعض اہل علم نے صحیح اور بعض نے حسن قرار دیا ہے مشہور محدث محب اللہ شاہ صاحب راشدی رحمہ اللہ تعالیٰ نے الاعتصام میں شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں اس کو ضعیف قرار دیا تھا شاہ صاحب کی بات درست ہے کیونکہ اس کی سند میں لیلیٰ اور عبدالرحمن بن خلاد دونوں مجہول ہیں ایک مجہول کی دوسرا مجہول متابعت کرے تو دونوں میں سے کسی کا عادل وثقہ ہونا تو ثابت نہیں ہوتا لہٰذا عورت کی امامت کتاب وسنت سے ثابت نہیں۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب


(1)إرواء الغلیل حسن۲/۲۵۵۔۲۵۶ ح۴۹۳’’ابوداؤد۔ الصلاۃ۔باب امامۃ النساء اسے ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا عورتوں کی امامت کراتی اور صف کے درمیان کھڑی ہوتی تھیں۔ ابن ابی شیبہ، ابن حزم نے اسے صحیح کہا ہے۔‘‘

احکام و مسائل

نماز کا بیان ج1ص 156

محدث فتویٰ

 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ