سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(43)جب جہری نماز میں امام غلط پڑھ جائے تو کیا مقتدی کو اسے بتلانا چاہے؟

  • 16203
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-08
  • مشاہدات : 293

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جہری نماز کے دوران اگرا مام قراء ت میں خطا کرجاے ، کوی آیت یاآیت کا کچھ حصہ چھوڑ جائے یا غلطی سے آیت کا لفظ بدل دے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔ تو کیا مقتدی اسے لوٹا اور بتلا سکتا ہے؟

عبدالطیف ۔م۔ ع۔ الریاض


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب امام قراء ت میں کوئی آیت چھوڑنے کی غلطی کرجائے یا اس کی قراء ت میں لحن ہو تواس کے پیچھے نماز ادا کرنے والوں کے لیے مشروع ہے کہ اسے بتلادیں(لقمہ دیں) اور اگر ایسی بات سورہ فاتحہ میں واقع ہوتو پیچھے نماز ادا کرنے والوں پر واجب ہے کہ وہ امام کو بتلائیں۔ کیونکہ فاتحہ کی قراء ت نماز کا رکن ہیے إلایہ کہ لحن ایسا ہو جس سے آیت کے معنی نہ بدلتے ہوں اس صورت میں بتلانا وجب نہ ہوگا۔ جسے وہ الرحمن یاالرحیم میں کسرہ کے بجائے نصب(۔۔۔َ)پڑھ جائے یا ایسا ہی کوئی اور لحن ہو۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ