سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(40)امام کی قراءت اور تجوید کا کمزور ہونا

  • 16200
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-08
  • مشاہدات : 297

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 میں ریاض کے نواح میں ایک مسجد میں امام ہوں ۔ مجھے اشکال یہ ہے کہ قرأت میں میری تجوید کمزور ہے اور اس لحاظ سے کافی غلطیاں ہیں۔ مجھے قرآن کے تین پارے اور ان کے علاوہ بعض سورتوں کی بعض آیات بھی زبانی دیا ہیں او رمیں اپنی ذمہ داری سے ڈرتا ہوں۔ مجھے توقع ہے کہ آپ مجھے جواب سے مستفید فرمائیں گے کہ آیا میں امامت جاری رکھوں یا مسجد انتظامیہ کو جواب دے دوں؟

م۔م۔ا۔ الریاض


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ پر لازم ہے کہ آپ جس قدر قرآن یاد کرسکتے ہوں اس میں اور تجوید میں اپنی پوری کوشش کریں اورآپ کو بھلائی کیاور اللہ عزوجل کی مدد کی خوشخبری ہو جبکہ آپ اپنی نیت بہتر بنالیں اور اس میں پوری ہمت صرف کردیں۔ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا ﴿٤﴾...الطلاق

 ’’ اور جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ اس کا کام آسان کردیتاہے ۔‘‘ (الطلاق: ۴)

اورنبی ﷺ نے فرمایا ہے:

((الماہرُ بالقرآنِ مع الَّفَرئِ الِرَامِ البررَة، والَّذی یَقْر أُلْقرآنَ ویَتَعَتَعُفیه وہو علیه شاقٌّ له أجْران۔))

’’ قرآن کا ماہر معزز اور نیکوکار لکھنے والوں (فرشتوں) کے ساتھ ہوگا اور جوشخص قرآن پڑھتا ہے اور اس میں ہکلاتاہے او رپڑھنا اس پر دشوار ہے اس کے لیے دو اجر ہیں ۔‘‘

اور ہم آپ کو جواب دے دینے کی نصیحت نہیںکرتے بلکہ دائمی کوشش او رصبر واستقلال کی تاکید کرتے ہیں تا آنکہ آپ کتاب اللہ کی تجوید اور اسے پورا حفظ کرنے میں کامیاب ہوجائیں یا جس قدر اس سے میسر آئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے اور آپ کا کام آسان کرے۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ