سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(39)جب مقتدی آئے اور امام رکوع میں ہو تو آیاوہ تکبیر تحریمہ کہے یا تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے

  • 16199
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-08
  • مشاہدات : 548

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب مقتدی نماز میں شامل ہونے لگے اور امام رکوع میں ہو تو کیا مقتدی تکبیر تحریمہ کہے تکبیر کہہ کر رکوع میں شامل ہوجائے۔؟
فہد۔ ع۔ ع الریاض


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب مقتدی نماز میں شامل ہونے لگے اور امام رکوع میں ہو تو کیا مقتدی تکبیر تحریمہ کہے تکبیر کہہ کر رکوع میں شامل ہوجائے۔؟

فہد۔ ع۔ ع الریاض


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بہتر اور محتاط بات یہی ہے وہ دونوں تکبیریں کہے ۔ ایک تکبیر تحریمہ اور وہ رکن ہے اور یہ کھڑا ہونے کی حالت میں ہی کہی جائے گی اور دوسری رکوع کی تکبیر جبکہ وہ رکوع کے لیے جھکنے لگے۔ پھر اگر اسے رکعت فوت ہونے ڈر ہو تو علماء کے دواقوال میں سے صحیح ترقول کے مطابق تکیبر تحریمہ اسے کفایت کرجائے گی۔ جیسا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ابوبکر ہ ثقفی سے روایت کیا ہے کہ وہ نبیﷺ کے پاس آئے  جبکہ وہ رکوع میں تھے تو ابوبکرہ نے نماز کی خاطرصف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع کیا۔ پھر اسی حالت میں صف میں شامل ہوگے تو نبی ﷺ نے اسے فرمایا:

((زادَک اللّہُ حِرْصاً! والاتَعُدْ۔))

’’اللہ تمہاری حرص زیادہ کرے ۔ پھر ایسانہ کرنا۔‘‘

اور لاتعد کا معنی یہ ہے کہ صف میں شامل ہونے سے بیشتر رکوع نہ کرنا بلکہ داخل ہونے والے کے یے یہ ضروری ہے کہ وہ نماز کی خاطر صف میں شامل ہونے سے پیشتر رکوع نہ کرنیاورآپ ﷺ نے ابوبکرہ ﷜ کو اس رکعت کی قضاء کا حکم نہیں دیا۔ جو اس رکعت کے شمار ہونے پر دلالت کرتا ہے اور اس کے حق میں فاتحہ کا سقوط (نہ پڑھنا معاف ہے) اس لیے اس کا ـمحل یعنی قیام فوت ہوگیا ہے۔ اوریہ بات ان لوگوں کے ہاں بھی صحیح ترہے جو مقتدی کے لیے فاتحہ پڑھنے کے وجوب کے قائل ہیں ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ