سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(262) جب نماز پڑھتے ہوئے کپڑے کی نجاست میں شک ہو

  • 16182
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-08
  • مشاہدات : 474

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب امام کو نما ز پڑھتے ہو ئے کپڑ ے کی نجا ست پر شک ہو ا اور وہ محض  شک کی بنیا د پر نماز کو نہ تو ڑ ے او ر نما ز سے فا ر غ ہو نے کے بعد واقعی کپڑے کو نا پا ک دیکھے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اس قسم کی صورت حا ل  میں کیا محض شک کی بنیا د پر نما ز ختم کر دے یا نماز  کو پو ر اکر ے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جب نما ز پڑھتے ہو ئے نماز ی کو اپنے کپڑے کے با ر ے میں ناپا کی کا شک ہو تو اس کے لئے نماز کو تو ڑ نا جا ئز نہیں خوا ہ اما م ہو یا متقدی  اسے اس حا لت میں بھی نماز پو ر ی کر نی چا ہئے اور نما ز سے فرا غت کے بعد اگر معلوم ہو کہ کپڑا واقعی نا پا ک تھا تو علما ء کے صحیح قول کے مطا بق اس نماز کی قضا ء بھی لا ز م نہیں کیو نکہ اسے نا پا کی کا یقین نما ز کے بعد ہو ا ہے حدیث سے ثا بت ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بحا لت نما ز جبریل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین ناپاک ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ہی میں نعلین اتا ر دیئے اور نما ز کو بد ستور جا ر ی رکھا اور ابتدا ئی حصہ کو دوہرایا نہیں تھا ۔(شیخ ابن باز )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ :جلد1

صفحہ نمبر 274

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ