سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(22)جنبی، حائضہ اور نفاس والی عورت کی قراءت قرآن کا حکم

  • 16165
  • تاریخ اشاعت : 2016-06-07
  • مشاہدات : 783

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم کلتیہ البنات کی طالبات ہیں۔ ہمارے لیے قرآن کا ایک جزو حفظ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر کبھی کبھی امتحانات کا وقت آجاتا ہے اوروہی وقت ماہواری کا ہوتا ہے تو کیا ہمارے لیے امتحانی پرچہ پر سورہ لکھنا اور اسے زبانی پڑھنا درست یا نہیں’؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم کلتیہ البنات کی طالبات ہیں۔ ہمارے لیے قرآن کا ایک جزو حفظ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر کبھی کبھی امتحانات کا وقت آجاتا ہے اوروہی وقت ماہواری کا ہوتا ہے تو کیا ہمارے لیے امتحانی پرچہ پر سورہ لکھنا اور اسے زبانی پڑھنا درست یا نہیں’؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علماء کے دو اقوال میں سے صحیح تر قول یہ ہے کہ حیض اور نفاس والی عورت کے لیے قرآن پڑھنا جائز ہے کیونکہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جو اس بات سے ممانعت پر دلالت کرتا ہو لیکن مصحف (قرآن کریم) کو چھونا نہیں چاہیے۔ حیض والی اور نفاس والی دونوں کو چاہیے کہ وہ کوئی پاکیزہ کپڑا ایسی ہی کوئی چیز قرآن پر رکھ لیں جو قرآن کرم لکھنے کی ضرورت ہو۔

رہا جنبی تووہ جب تک نہانہ لے ، قرآن کریم نہیں پڑھ سکتا کیونکہ اس کے متعلق صحیح حدیث وراد دہے جو ممانعت پر دلالت کرتی ہے۔ حیض اور نفاس والی عورتوں کو جنبی پر قیاس کرنا درست نہیں۔ کیونکہ ان دونوں کی مدت طولانی ہوتی ہے بخلاف جنبی کے ۔ جب وہ جنابت واجب کرنے والی چیز سے فارغ ہو تو وہ کسی بھی وقت غسل کر سکتا ہے۔ 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ