سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(155) خلف الامام سورۃ فاتحہ پڑھنا

  • 1611
  • تاریخ اشاعت : 2012-07-23
  • مشاہدات : 739

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے جمعہ اول شوال کو صبح کی نماز جامعہ اشرفیہ میں پڑھی اور بعد میں جناب مولانا عبدالرحمن صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا آپ کا رقعہ میں ساتھ ہی لایا ہوا تھا میں نے آپ کا جواب ان کو پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے سن کر مجھ سے کہا کہ قرآن میں آیت ہے﴿وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾  --الاعراف:۲۰۴‘‘انہوں نے مجھ سے کہا کہ انہیں لکھو کہ وہ مولانا سرفراز کی کتاب احسن الکلام جو کہ دو جلدوں میں ہے اسکا مطالعہ کریں آیت کی وضاحت جو مولانا سرفراز صاحب نے کی ہے اس کی روشنی میں آپ مندرجہ بالا آیت کو پڑھ لیں ایسا جواب دیں جس کا جواب انہوں نے اپنی کتاب میں نہ دیا ہو۔ مولانا عبدالرحمن صاحب نے مجھ سے کہا کہ انہیں لکھیں کہ آپ کا جواب سن کر دل خوش ہوا ۔ آپ کے اخلاص کا پتہ لگا جس سے دل خوش ہوا لیکن اتنی بات رہی کہ جو بات میں نے ان کو کہی تھی وہ نہیں پہنچائی جس کے بارے میں جناب کو یہ لکھنا پڑا نیز مولانا صاحب نے فرمایا کہ قرآن کی مندرجہ بالا آیت کا جو عام معنی ہے اس کے خلاف کرنے کے لیے اگر کوئی حدیث لائیں تو صحیح بھی ہو اور صریح بھی مقتدی کے بارے میں اور یہ بھی فرمایا کہ سورت فاتحہ خلف الامام رفع الیدین سے اہم مسئلہ ہے اور نازک مسئلہ ہے اس لیے بحث جو ہو گی سورت فاتحہ خلف الامام پر ہو گی ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

آپ نے لکھا ’’اور (مولانا عبدالرحمن صاحب جامعہ اشرفیہ والوں نے) یہ بھی فرمایا کہ سورۃ فاتحہ خلف الامام رفع الیدین سے اہم مسئلہ ہے اور نازک مسئلہ ہے اس لیے بحث جو ہو گی سورۃ فاتحہ خلف الامام پر ہوگی ‘‘۔

اس سے پتہ چلا کہ حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب جامعہ اشرفیہ والے بات چیت کرنا چاہتے ہیں اس لیے برائے مہربانی آپ جواب ان کے اپنے دست مبارک سے لکھوا کر بھیجا کریں ورنہ وہ پہلے کی طرح پھر بھی کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے میری بات ان تک نہیں پہنچائی لہٰذا آئندہ آپ جواب ان کے اپنے ہاتھ سے لکھوا کر بھیجیں ۔

رہا مسئلہ کی اہمیت ونزاکت والا معاملہ تو حضرت الامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کا مسئلہ تو فاتحہ خلف الامام سے بھی کہیں بڑھ کر اہم اور نازک ہے اس لیے بات چیت ہو تو حضرت الامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کے موضوع پر ہو تاکہ فاتحہ خلف الامام سمیت تمام اختلافی مسائل حل ہو جائیں فاتحہ خلف الامام پر بات چیت کی صورت میں تو صرف یہی ایک مسئلہ حل ہو گا نیز تقلید کا وجوب ثابت ہونے کی صورت میں بندہ نے مقلد بھی ہو جانا ہے جس کا مولانا موصوف کو دنیا وآخرت میں بہت ہی زیادہ فائدہ پہنچے گا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

تو خیر کوئی بات نہیں اگر وہ فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر ہی بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور تھوڑے فائدے کو ہی زیادہ فائدے پر ترجیح دیتے ہیں تو بندہ اسی موضوع پر بات چیت کر لیتا ہے تو آپ نے لکھا ’’میں نے آپ کا جواب ان کو پڑھ کر سنایا انہوں نے سن کر مجھ سے کہا کہ قرآن میں آیت ہے﴿وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾ انہوں نے مجھ سے کہا کہ انہیں لکھو کہ وہ مولانا سرفراز صاحب کی کتاب احسن الکلام جو کہ دو جلدوں میں ہے اس کا مطالعہ کریں ‘‘ الخ۔

تو محترم کتاب احسن الکلام کا بندہ نے پہلے بھی کئی دفعہ مطالعہ کیا ہوا ہے اور آپ کا یہ خط پہنچنے پر میں نے اس کتاب کے مذکورہ بالا آیت مبارکہ سے متعلق باب کو ایک دفعہ پھر بڑی توجہ سے پڑھا تو ا س سارے باب میں جو کچھ بیان کیا گیا اس کا حاصل کل تین چیزیں ہیں ۔ (۱) مذکورہ بالا آیت مبارکہ نماز کے بارہ میں نازل ہوئی ہے ۔ (۲)الاستماع کا معنی ہے الاصغاء اور الانصات کا معنی ہے السکوت مع الاستماع ۔ (۳) اس سے سراً اور جہراً دونوں طرح قرء ات (پڑھنے) کی ممانعت نکلتی ہے ۔ میں نے صاحب احسن الکلام کی طرف سے اس آخری اور تیسری چیز پر پیش کردہ مواد پرکافی غور وفکر کیا مگر مجھے اس مواد میں کوئی ایک جملہ بھی ایسا نہیں ملا جو آیت کے سراً قرأ ت (پڑھنے) کی ممانعت پر دال ہونے کی فی الواقع دلیل بن سکے اس لیے آپ مولانا موصوف سے مؤدبانہ عرض کریں کہ وہ کوئی ایسی دلیل پیش فرمائیں جس سے مذکورہ آیت مبارکہ کا سراً قرا ء ت (پڑھنے) کی ممانعت پر دلالت کرنا فی الواقع ثابت ہو بھی جائے تاکہ بات آگے چل سکے ۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل

نماز کا بیان ج1ص 139

محدث فتویٰ

 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ