سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(420) کیا شادی شدہ بیٹی والدین پر خرچ کرے گی؟

  • 16031
  • تاریخ اشاعت : 2016-05-09
  • مشاہدات : 492

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا لڑكے کی طرح کا مال بھی والدین کی طرف لوٹتا ہے؟ اور کیا لڑکی کے ذمہ بھی اسی طریقے سے والدین پر خرچ کرنا واجب ہے؟بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکی کی شادی کے بعد اگر اس کے بھائی والدین پر خرچ کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو لڑکی کے ذمہ والدین کا خرچہ واجب نہیں؟

اور کیا بیوی کے مال میں خاوند کا کوئی حق ہے؟اور اگر خاوند کا خیال ہو کہ بیوی کا مال والدین پر خرچ کرنا واجب نہیں تو کیا بیوی اس مسئلے میں خاوند کی اطاعت کرے؟اور اگر والدین فقیرہوں اور بیوی کا کوئی خاص مال نہیں تو کیا اس کے خاوند کے ذمہ ہے کہ وہ بیوی کے والدین پر خرچ کرے؟وہ اس طرح کہ والدین کے لیے جائز ہے کہ وہ بیٹی سے زکوۃ کا مال لے لیں لیکن خاوند کے والدین کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیٹے کے مال سے زکوۃ کا مال لیں اس لیے کہ بیٹے پر والدین کا خرچہ واجب ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اولاد ایک ایسا لفظ ہے جس میں بیٹے اور بیٹیاں سب شامل ہیں اور والد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی اولاد کے مال میں جس طرح چاہے تصرف کرے۔ حدیث میں ہے کہ:

"تو اور تیرامال تیرے والد کاہے۔"

اس لیے اگر والد اپنی اولاد کے مال میں سے کچھ لینا چاہے تو یہ اس کا حق ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے اولاد پر کوئی ضرر نہ آئے اگر والدین فقیرہوں اور بیٹی کے پاس اپنی ضرورت سے زائد مال ہو تو بیٹی پر لازم ہے کہ وہ اپنے والدین پر خرچ کرے لیکن اپنی ضروریات میں کمی نہ کرے۔

اور خاوند کے ذمہ بیوی کے خرچے کے بارے میں گزارش ہے کہ خاوند کے ذمہ واجب ہے کہ وہ بیوی کا واجب شدہ خرچہ پورا کرے اور اگر بیوی کہیں ملازم ہو تو وہ بیوی کا مال ہے اور اس کے ساتھ خاص ہے لیکن اگر خاوند یہ شرط رکھے کہ بیوی کی ملازمت اور اس کے گھر سے باہر جانے کی صورت میں وہ اس کی تنخواہ کا کچھ حصہ وصول کرے گا اور عورت اسے تسلیم کر لے

تو اسےمقررہ حصہ اسے اداکرنا ہو گا۔

بیوی کو جب بھی مال ملے اسے اس کی حفاظت کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنی یا اپنی اولاد کی یا پھر اپنے  والدین کی ضروریات پوری کر سکے۔اور اگر اس لڑکی کے اور بھی بہن بھائی ہوں اور ان میں سے کوئی ایک والدین کا خرچہ برداشت کر رہا ہو تو باقی سب سے وجوب ساقط ہو جائے گا اور جو خرچہ برداشت کر رہا ہے وہ اجر و ثواب کا مستحق ہو گا۔یا پھر ایک صورت یہ ہے کہ سب بہن بھائی آپس میں والدین کا خرچہ تقسیم کرلیں کہ ہر ایک کو اتنی رقم ادا کرنا ہوگی۔

رہا داماد کامسئلہ تو اس پر کوئی ضروری نہیں کہ وہ اپنی بیوی کے والدین (یعنی اپنے سسرال والوں )پر خرچہ کرتا پھرےلیکن اگروہ اپنےمال کی زکوۃ اداکرنا چاہے تو انہیں دے سکتا ہے(بشرطیکہ وہ مستحق ہوں) لیکن بیٹی اپنے والدین کو زکوۃ کا مال نہیں دے سکتی اس لیے کہ بیٹی پر والدین کو کھلانا پلانا واجب ہے لہٰذاوہ زکوۃ کے مال کے علاوہ اپنے مال سے ان کا خرچہ برداشت کرے۔(واللہ اعلم ) (شیخ ابن جبرین )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص506

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ