سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(418) باپ کا بیٹے پر خرچ کا زیادہ بوجھ ڈالنا

  • 16029
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-02
  • مشاہدات : 1249

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرے والد صاحب مجھ سے ہر وقت مال کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں اور مطالبات کی کثرت سے مجھے تنگ کرتے ہیں حالانکہ میں بھی صاحب عیال ہوں میری بھی کچھ ضروریات ہیں تو مجھ پر کس حد تک واجب ہے کہ میں اپنے والد کو رقم دوں نیز اس حدیث کا کیا معنی ہے" آپ اور آپ کا مال بھی آپ کے والد کا ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے کہا اے اللہ کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ! میرے پاس مال بھی ہے اور اولاد بھی اور میرا والد میرا مال لینا چاہتا ہے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا :

أنت ومالك لأبيك"

"تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے۔(صحیح ،صحیح ابن ماجہ ،ابن ماجہ 2291۔کتاب التحرات باب ماللرجل من مال ولدہ ارواء الغلل 838صحیح الجامع الصغیر 1487)

ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   بیان کرتی ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنے بیٹے کے مال سے جو چاہے کھا سکتا ہےاور بیٹا اپنے والد کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر نہیں کھا سکتا ۔

اور سعید بن مسیب  رحمۃ اللہ علیہ  کا بھی کہنا ہے کہ:

والد اپنے بیٹے کے مال سے جو چاہے کھا سکتا ہے مگر بیٹا اپنے والد کے مال سے اس کی رضا مندی کے بغیر نہیں کھا سکتا۔

ابن جریج  رحمۃ اللہ علیہ  کا قول ہے کہ:

عطاء رحمۃ اللہ علیہ  اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ کوئی شخص اپنے بیٹے کے مال سے جو چاہے بغیر ضرورت لے لے۔

امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ  نے اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہےکہ:

والد کے لیے جائز ہے کہ وہ بیٹے کے مال سے جو چاہے لے اور اسے اپنی ملکیت بنالے خواہ اسے اس کی ضرورت ہو یا نہ خواہ بیٹا چھوٹا ہو یا بڑا البتہ باپ اپنے بیٹے کا مال شرطوں کے ساتھ لے سکتا ہے۔

1۔وہ بیٹے کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے اور نہ ہی وہ چیز لے جو بیٹے کی ضرورت ہو۔

2۔وہ ایک بیٹے سے مال لے کر دوسرے بیٹے کو نہ دے۔

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  نے اس پر نص بیان کی ہے۔یہ حکم اس لیے ہے کہ اولاد میں سے بعض کو خاص کر لینا کچھ کو دینا اور کچھ کو نہ دینا صحیح نہیں اور اس طرح کسی ایک بیٹے کا مال لے کر دوسرے کو دینا بالا ولیٰ ممنوع ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  کا کہنا ہے کہ والد کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ بیٹے کا مال لے اس لیے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   کا فرمان ہے۔

"فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا"

"تمھارے خون اور اموال ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جسے آج کے دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔( مسلم 1218۔کتاب الحج باب حجہ النبی)

اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ:

"لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ".

"کسی بھی مسلمان کامال اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔"( صحیح ارواءالغلیل 1459)

لیکن ہماری دلیل وہ ہے جو ابتداء میں ذکر کر دی گئی ہے اور ہمارے علم میں مطابق وہی قول راجح ہے۔شیخ محمد ابراہیم آل شیخ کے فتاویٰ میں ہے کہ:

والد کے لیے اپنے بیٹے کا مال لینا جائز ہے اس لیے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   کا فرمان ہے"تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے"اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ:

"تمھارا سب سے اچھا کھانا وہ ہے جو تمھاری کمائی کا ہو اور تمھاری اولاد بھی تمھاری کمائی ہے ۔"تاہم یہ یاد رہے کہ والد بیٹے کا مال پانچ شروط کے ساتھ لے سکتا ہے۔

1۔وہ چیز لے جو بیٹے کو تکلیف نہ دے اور جس کی اسے ضرورت نہ ہو ۔

2۔ایک بیٹے سے لے کر کسی اور بیٹے کو نہ دے ۔

3۔یہ کام دونوں میں سے کسی ایک کی بھی مرض  الموت میں نہ ہو۔

4۔والد کافر اور بیٹا مسلمان نہ ہو یعنی ان کے دین مختلف نہ ہوں۔

5۔وہ چیزبعینہ موجود ہو۔

ہمارے فقہاء کی کلام یہی ہے اور فتویٰ اسی پر ہے۔( دیکھیں فتاوی ورسائل شیخ محمد ابن ابراہیم آل شیخ (ص/200) (شیخ محمد المنجد)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص504

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ