سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(416) صرف ضرورت مند بیٹے کا قرض ادا کرنا

  • 16028
  • تاریخ اشاعت : 2016-05-09
  • مشاہدات : 304

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مجھے یہ علم ہے کہ اولاد کے درمیان عدل کرنا واجب ہے لیکن میرے ایک بیٹے پر بہت زیادہ قرض ہے اور وہ فقیر ہونے کی وجہ سے اسے ادا نہیں کر سکتا تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اپنے مال سے اس کے قرض کی کچھ ادائیگی کردوں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اولاد کے درمیان عدل واجب ہے ہبہ میں بھی عدل ضروری ہے اولاد کو دیتے ہوئے کسی کو دینا اور کسی کو محروم کردینا یا کسی ایک کو دوسرے پر فضیلت دینا حرام ہے الاکہ اس کا کوئی سبب ہو تو پھر درست ہے مثلاً اگر اولاد میں سے کوئی ایک بیماریا اندھا یا معذور ہو یا اس کا گھرانہ بڑا ہو یا وہ طالب علم ہو وغیرہ تو ان وجوہات کی بنا پر اسے افضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں۔

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے۔

اولاد میں سے کسی ایک کے لیے وقف کی تخصیص اگر کوئی ضرورت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر یہ کام اس کے ساتھ ترجیحی بنیاد پر کیا جارہا ہو تو میرے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔

اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کا کہنا ہے۔

حدیث اور آثار اولاد کے درمیان عدل کے وجوب پر دلالت کرتے ہیں پھر یہاں اس کی دوقسمیں ہیں ۔

1۔ایک قسم تو وہ ہے جو اپنی بیماری اور صحت میں خرچہ کے محتاج ہوتے ہیں اس میں عدل یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق دیا جائے اور کم اور زیادہ ضرورت مند کے درمیان کوئی فرق نہ کیا جائے ۔

2۔ایک قسم وہ ہے جس میں ان کی ضروریات مشترک ہیں یعنی عطیہ اور خرچہ یا شادی میں تو اس قسم میں کمی و زیادتی کرنے کی حرمت میں کوئی شک نہیں۔

ان دونوں قسموں کے مابین ایک تیسری قسم بھی بنتی ہے۔

وہ یہ کہ ان میں سے کسی ایک کو ایسی ضرورت درپیش ہو جو عادتاً پیش نہیں آتی مثلاً کسی ایک کی طرف سے قرض کی ادائیگی جو اس کے ذمہ کسی جرم کی وجہ سے واجب تھی (یعنی کسی بھی جسمانی تکلیف دینے کی وجہ سے مالی سزا کی ادائیگی )یا اس کا مہر ادا کیا جائے اور بیوی کا خرچہ دیا جائے تو اس صورت میں کسی دوسرے کو واجبی طور پر دینے میں غور و فکر کی ضرورت ہے( ابھی تک اس کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ) (واللہ اعلم)(شیخ محمد المنجد )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص502

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ