سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(379) کیا خلوت کے ساتھ عدت واجب ہوجاتی ہے؟

  • 15976
  • تاریخ اشاعت : 2016-05-08
  • مشاہدات : 345

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیاخلوت کے ساتھ ہی عدت واجب ہوجائے گی جبکہ ان دونوں یا ان میں سے ایک میں حسی یا شرعی مانع(رکاوٹ) موجود ہو؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر ہم بستری ہوجائے تو پھر عدت واجب ہوجائے گی خواہ مذکورہ مانع ہی کیوں نہ موجود ہو۔کیوکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا عموم یہی ہے:

﴿وَالمُطَلَّقـٰتُ يَتَرَ‌بَّصنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلـٰثَةَ قُر‌وءٍ ...﴿٢٢٨﴾... سورة البقرة

"اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک  روکے رکھیں۔"

تاہم اگر ہم بستری نہ ہوئی ہوتو پھر(محض خلوت کے ساتھ ہی)عدت واجب نہیں ہوگی جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا نَكَحتُمُ المُؤمِنـٰتِ ثُمَّ طَلَّقتُموهُنَّ مِن قَبلِ أَن تَمَسّوهُنَّ فَما لَكُم عَلَيهِنَّ مِن عِدَّةٍ تَعتَدّونَها...﴿٤٩﴾... سورة الاحزاب
"اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں چھونے(یعنی مباشرت) سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت نہیں جسے تم شمار کرو۔"(شیخ عبدالرحمان سعدی)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص467

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ